تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 38
ہوئے کہا کہ یہ شخص بدروحوں کے سردار بعلز بول کی مدد سے بد روحوں کو نکالتا ہے تو حضرت مسیح ؑنے انہیں جواب دیا کہ ’’ اگر شیطان ہی نے شیطان کو نکالا تو وہ آپ اپنا مخالف ہوگیا۔پھر اُس کی بادشاہی کیونکر قائم رہے گی ؟‘‘ ( متی باب ۱۳ آیت ۲۶) یعنی اگر میں شیطان کی مدد سے یہ کام کر رہا ہوں تو کیا شیطان نے مجھے اپنے خلاف ہی مدد دینی تھی ؟ اگر وہ مجھے کچھ سکھاتا تو کم از کم اُسے چاہیے تھا کہ اپنے خلاف نہ سکھاتا۔مگر تمہارے نزدیک تو شیطان نے مجھے وہ کام سکھلا دیا جو خود اس کو تباہ کرنےوالا ہے۔گویا شیطان آپ ہی اپنا دشمن ہوگیا۔اسی طرح اگر عیسائی غلام رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو قرآن کریم بنا کر دیا کرتے تھے تو کیا انہوں نے اپنے مذہب پر ہی تبر رکھنا تھا۔اور اسی کے خلاف تعلیم بنا بنا کر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دینی تھی ؟ پس یہ اعتراض خود اپنی ذات میں اپنے باطل ہونے کا اعلان کر رہا ہے اور بتا رہا ہے کہ اس اعتراض کی بنیاد محض جھوٹ اور افتراء پر ہے۔اسی طرح ظُلْمًا وَّ زُوْرًا کہہ کر اس طرف بھی توجہ دلائی گئی ہے کہ اگر کوئی اور جماعت ایسی کتاب بنا سکتی تھی تو اُس نے یہ کتاب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بنا کر کیوں دی۔اُس نے یہ کتاب خود اپنی طرف کیوں نہ منسوب کر لی۔پس دوسرے لوگوں پر ایسا اتہام لگانا بہت بڑا ظلم ہے۔یعنی یہ اس بات کا اظہار کرتا ہے کہ باوجود کامل ہونے کے انہوں نے اپنا کمال ایک گھٹیا قسم کے آدمی کو دے دیا۔پھر ظُلْمًا وَّ زُوْرًا کہہ کر اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے کہ جن غلاموں کی نسبت یہ کہا جاتا ہے کہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو قرآن سکھایا کرتے تھے وہ تو رات اور دن اسلام کی خاطر تکلیفیں اٹھاتے رہے بلکہ اُن میں سے کئی کفار کے مظالم سہتے سہتے شہید ہو گئے۔پھر اُن کی نسبت یہ کیونکر تصور کیا جا سکتا ہے کہ وہ خود قرآن بنا بنا کر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا کرتے تھے۔جو لوگ خود ایک جھوٹی تعلیم بنا کر پیش کرتے ہوں کیا وہ اس مفتریانہ کلام کی خاطر اس قدر قربانیاں کر سکتے ہیں ؟ جس قدر صحابہ ؓ اور صحابیات ؓ نے کیں۔پس یہ کتنا بڑا ظلم ہے کہ جن غلاموں نے اپنے خونوں سے اسلام کے درخت کی آبیاری کی اُنہی پر کفار یہ اعتراض کرتے ہیں کہ انہوں نے محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کو قرآن بنا کر دیا۔ان غلاموں نے اسلام کی خاطر جو جو تکالیف اٹھائیں اُن کا تو تصور کرکے بھی رونا آتا ہے۔عرب میں غلاموں کو کوئی پوزیشن حاصل نہیں تھی۔کوئی شہری حقوق انہیں حاصل نہیںتھے۔آقا اُن کو مار ڈالتے تو اُن کو کوئی پوچھنے والا نہیں تھا کیونکہ وہ اپنے آقائوں کی ملکیت سمجھے جاتے تھے۔اُس وقت کوئی قانون نہیں تھا جو اُن کی حفاظت کر سکتا۔جب بعض غلام رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے تو تپتی ریتوں پر انہیں لٹایا جاتا۔