تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 413 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 413

دعویٰ کرے گا اور کہے گاکہ میں عاشق ہوں وہ میں ہوں گا۔حقیقت یہ ہے کہ عاشق اور مسلمان دو متضاد چیزیں نہیں بلکہ ایک ہی چیز کے یہ دو نام ہیں مگر عاشق سے میری مراد ہوس پرست عاشق نہیں بلکہ ایک سچا اور کامل مسلمان مراد ہے۔وہ مصائب کو صرف برداشت ہی نہیں کرتا بلکہ اگر اس پر مصائب نہ آئیںتو وہ اپنے اندر ایک بے کلی سی محسوس کرتا ہے اور ڈرتا ہے کہ کہیں میرا محبوب مجھ سے خفا تو نہیں ہوگیا۔مصائب سے بھاگنا ایک منافق کا کام ہے اور مصائب کو برداشت کرنا صرف مسلمان کا خاصہ نہیں بلکہ ایک کافر بھی اس میں شریک ہوسکتا ہے۔لیکن سچا مسلمان وہ ہے جو نہ صرف مصائب کو برداشت کرتا ہے بلکہ مشکلات کے دور کو اپنی روحانی ترقی کا ایک ذریعہ سمجھتا ہے۔اور اگر اس دور میں التواء واقعہ ہو جائے۔تووہ گھبراتا ہے کہ کہیں میرے ایمان میں تو کوئی نقص نہیں آگیا کہ میرا رب میرے ایمان کو دنیا پر ظاہر کرنے کی کوئی تدبیر نہیں کررہا۔پس بیشک اکثریت اپنی طاقت کے گھمنڈ میں مومنوں پر ظلم کرتی رہے وہ اسے برداشت کرتے چلے جاتے ہیں۔یہاں تک کہ مجرموں کا پیمانہ لبریز ہوجاتا ہے۔اور اکثریت کے بل بوتے پر ظلم کرنے والے اپنے جرائم کی پاداش میں کیفر کردار کو پہنچ جاتے ہیں چنانچہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ فتح کرکے آئے تو آپؐ نے اُن کفار سے جو رات دن آپؐ پر اور آپؐ کے صحابہ ؓ پر شدید ترین مظالم کرتے رہتے تھے پوچھا کہ اے مکہ والو !بتاؤ اب میں تمہارے ساتھ کیا سلوک کروں؟آپ کا مطلب یہی تھا کہ تم جو ننانوے فیصدی ہونے کے گھمنڈ میں یہ کہا کرتے تھے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کیا حیثیت ہے۔اس کی کیا طاقت ہے کہ وہ ہمارے مقابلہ میں بول سکے۔اب اُس کے سامنے تم اکثریت کے دعوے دار پیش ہو رہے ہو۔مگر اس دن وہ ایسے سٹپٹائے کہ انہوں نے کہا۔ہم آپؐسے اُسی سلوک کی امید رکھتے ہیں جو یوسف ؑ نے اپنے بھائیوں کے ساتھ کیا تھا۔چنانچہ آپؐ نے اُ ن سب کو معاف فرما دیا۔(زاد المعاد فی ھدی خیر العباد، دخول النبی و المسلمین مکة)۔یہی اکثریت کا گھمنڈ فرعون کے دماغ میں بھی جاگزین تھا۔بلکہ اگر غور سے کام لیا جائے تو جب سے دنیا کا آغاز ہوا ہے ہمیشہ دو قسم کی حکومتیں پائی جاتی رہی ہیں۔ایک عقل اورسمجھ سے کام لینے والی اور دوسری زور اور طاقت سے کام لینے والی۔ہر زمانہ کے محاورے الگ الگ ہوتے ہیں۔آج کل جو حکومت عقل اور سمجھ سے کام لے اس کو جمہوریت کہتے ہیں۔اورجو حکومت زور اور تشدد اور طاقت سے کام لے اس کو ڈکٹیٹر شپ کہتے ہیں۔یا بعض دفعہ ہٹلر ازم بھی کہہ دیتے ہیں۔مگر نام خواہ کچھ ہی ہو جب سے دنیا بنی ہے یہ دونوں طاقتیں کام کررہی ہیں حضرت آدم علیہ السلام کے زمانہ سے یہ کام شروع ہوا اور اب تک جاری ہے۔قرآ ن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کے دو بیٹے تھے۔ایک کی اللہ تعالیٰ نے