تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 410
وَ اَوْحَيْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى اَنْ اَسْرِ بِعِبَادِيْۤ اِنَّكُمْ اور ہم نےموسیٰ ؑ کی طرف وحی کی کہ میرے بندوں کو راتوں رات لے جا۔تمہارا پیچھا کیا جائے گا۔اس مُّتَّبَعُوْنَ۰۰۵۳فَاَرْسَلَ فِرْعَوْنُ فِي الْمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيْنَۚ۰۰۵۴ پر فرعون نے شہروں کی طرف جمع کرنے والے آدمی بھجوائے۔(یہ کہتے ہوئے کہ ) یہ لوگ (یعنی بنی اسرائیل ) اِنَّ هٰؤُلَآءِ لَشِرْذِمَةٌ قَلِيْلُوْنَۙ۰۰۵۵وَ اِنَّهُمْ لَنَا تو ایک تھوڑی سی جماعت ہیں۔باوجود اس کے وہ ہم کو غصہ دلا رہے ہیں۔اور ہم ایک (بڑی) جماعت ہیں لَغَآىِٕظُوْنَۙ۰۰۵۶وَ اِنَّا لَجَمِيْعٌ حٰذِرُوْنَؕ۰۰۵۷ جوبہت محتاط ہیں (پس ہمیں ان کا مقابلہ کرنا چاہیے )۔حلّ لُغَات۔اَسْرِ۔أَسْرِاَسْرٰی سے امر کا صیغہ ہے۔اور اَسْرٰی سَرَی سے باب افعال کا ماضی کا صیغہ ہے۔سَرَی الرَّجُلُ کے معنے ہوتے ہیں سَارَ عَامَّۃَ اللَّیْلِ۔یعنی وہ رات کے اکثر حصہ میں چلتا رہا۔اور اَسْرٰی کے معنے سَرَی کی طرح ہی ہیں۔لیکن بعض ائمہ لُغت نے کہاہے کہ اَسْرٰی لِاَوَّلِ اللَّیْلِ وَسَرَی لِاٰخَرِ اللَّیْلِ۔رات کے ابتدائی حصہ میں چلنے کے لئے اَسْرٰی کا فعل استعمال کیا جاتا ہے اور رات کے آخری حصہ میں چلنے کے لئے سَرَی کا (اقرب) پس اَسْرِ بِعِبَادِیْ کے معنے ہوںگے (۱) رات کے وقت میرے بندوں کو لے کر چل۔(۲) یا رات کے ابتدائی حصہ میں لے کر چل۔شِرْ ذِمَۃٌ۔اَلشِّرْذِمَۃُ: اَلْجَمَاعَۃُ الْقَلِیْلَۃُ مِنَ النَّاسِ۔لوگوں کی تھوڑی سی جماعت (اقرب) حٰذِرُوْنَ۔حٰذِرُوْنَ حَاذِرٌ سے جمع کا صیغہ ہے اور حَاذِرٌ کے معنے ہوتے ہیں اَلْمُتَأَھِّبُ۔اَلْمُسَتَعِدُّّ چوکس اور تیار۔(اقرب) تفسیر۔اِس آیت میں اَسْرِ کا لفظ آتا ہے جو سَرٰی سے نکلا ہے اور سَرَی الرَّجُلُ کے معنے ہوتے ہیں سَارَ عَامَّۃَ اللَّیْلِ فلاں شخص رات کا اکثر حصہ چلتا رہا۔اور جب اَسْرَی الرَّجُلُ اِسْرَاءً کہیں تو اس کے معنے بھی سَرٰی کی طرح ہی رات کو چلنے کے ہوتے ہیں۔لیکن بعض لغویوں نے کہا ہے کہ اَسْرٰی کے معنے ہوتے ہیں رات