تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 406 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 406

فَاَلْقٰى مُوْسٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ تَلْقَفُ مَا يَاْفِكُوْنَۚۖ۰۰۴۶ تب موسیٰ نے بھی اپنا عصا دے مارا۔تو اچانک وہ ان کے جھوٹوں کو ملیامیٹ کرنے لگا۔تب جادوگر(خدا کے فَاُلْقِيَ السَّحَرَةُ سٰجِدِيْنَۙ۰۰۴۷قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الْعٰلَمِيْنَۙ۰۰۴۸ سامنے) سجدہ میں گرا دیئے گئے۔(اور) انہوں نے کہا ہم رب العالمین پر جو موسیٰ اور ہارون کا رب ہے رَبِّ مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَ۰۰۴۹قَالَ اٰمَنْتُمْ لَهٗ قَبْلَ اَنْ اٰذَنَ ایمان لاتے ہیں۔اس پر وہ (یعنی فرعون جھنجھلا کر) بولا کہ کیا میرے حکم دینے سے پہلے تم ایمان لے آئے ہو۔لَكُمْ١ۚ اِنَّهٗ لَكَبِيْرُكُمُ الَّذِيْ عَلَّمَكُمُ السِّحْرَ١ۚ فَلَسَوْفَ یہ (شخص )یقیناً تمہارا کوئی سردار ہے جس نے تم کو جادو سکھایا ہے۔پس عنقریب تم (اپنا انجام) تَعْلَمُوْنَ١ؕ۬ لَاُقَطِّعَنَّ اَيْدِيَكُمْ وَ اَرْجُلَكُمْ مِّنْ خِلَافٍ وَّ معلوم کرلو گے میں تمہارے ہاتھو ں اور پیروں کو (اپنی) خلاف ورزی کی وجہ سے کا ٹ دوں گا اور تم لَاُوصَلِّبَنَّكُمْ اَجْمَعِيْنَۚ۰۰۵۰قَالُوْا لَا ضَيْرَ١ٞ اِنَّاۤ اِلٰى رَبِّنَا سب کو صلیب پر لٹکا دوں گا۔انہوں نے کہا (اس میں) کوئی حرج نہیں۔آخر کار ہم اپنے ربّ کی طرف ہی مُنْقَلِبُوْنَۚ۰۰۵۱اِنَّا نَطْمَعُ اَنْ يَّغْفِرَ لَنَا رَبُّنَا خَطٰيٰنَاۤ اَنْ لوٹ کر جانے والے ہیں۔ہم امید رکھتے ہیں کہ ہمارا ربّ ہمارے گناہ اس وجہ سے معاف کردے گا كُنَّاۤ اَوَّلَ الْمُؤْمِنِيْنَؒ۰۰۵۲ کہ ہم سب سے پہلے ایمان لانے والوں میں سے بن گئے۔حلّ لُغَات۔تَلْقَفُ۔تَلْقَفُ لَقِفَ سے مضارع واحد مؤنث غائب کا صیغہ ہے اور لَقِفَ الشَّیءَ کے معنے ہوتے ہیں تَنَاوَلَہٗ بِسُرْ عَۃٍ اس کو جلدی سے پکڑ لیا(اقرب) پس تَلْقَفُ کے معنے ہوںگے جو کام جادوگر کر