تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 404
قَالَ لَهُمْ مُّوْسٰۤى اَلْقُوْا مَاۤ اَنْتُمْ مُّلْقُوْنَ۰۰۴۴فَاَلْقَوْا اس پر موسیٰ نے ان سے کہا کہ جو تدبیر تم نے کرنی ہےکرلو۔اس پر انہوں نے حِبَالَهُمْ وَ عِصِيَّهُمْ وَ قَالُوْا بِعِزَّةِ فِرْعَوْنَ اِنَّا لَنَحْنُ نے اپنی رسیّاں اور اپنے سونٹے (میدان میں نکال کر) رکھ دیئے اور کہا۔فرعون کے اقبال کی قسم الْغٰلِبُوْنَ۰۰۴۵ ہم ضرور غالب آئیں گے۔تفسیر۔جب فرعون اور آنے والے ساحروں میں بات چیت ہوچکی تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ تم نے جو کچھ میرے مقابلہ میں پھینکنا ہے پھینکو۔اس جگہ بھی سورئہ اعراف سے ایک اختلاف دکھائی دیتا ہے جس کا ذکر کر دینا ضروری معلوم ہوتاہے۔اور وہ یہ کہ سورئہ اعراف میں یہ لکھا ہے کہ مداریوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہا کہ اِمَّآ اَنْ تُلْقِیَ وَاِ مّآ اَنْ نَکُوْنَ نَحْنُ الْمُلْقِیْنَ(الاعراف :۱۱۶) یعنی پہلے آپ پھینکیں گے یا ہم پھینکیں۔حضر ت موسیٰ علیہ السلام نے کہا پہلے تم پھینکو۔لیکن اس آیت میں مداریوں کے سوال کا کوئی ذکر ہی نہیں۔صر ف حضرت موسیٰ ؑ کا قول درج ہے کہ تم نے جو کچھ پھینکنا ہے پھینک لو۔لیکن یہ بھی کوئی اختلاف نہیں بلکہ اس موقعہ کے مناسب یہی کلام تھا۔درحقیقت سورئہ اعراف میں مداریوں کا یہ یقین ظاہر کیا گیا ہے کہ ہم کو ضرور اجر ملے گا۔اس یقین کے مطابق انہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہا کہ پہلے آپ پھینکیں گے یا پہلے ہم پھینکیں۔لیکن سورئہ شعراء میں وہ الفاظ استعمال کئے گئے ہیں جن میں توقع کا پہلو غالب ہے یقین کا پہلو اتنا نمایاں نہیںاس لئے اللہ تعالیٰ نے کلام کی مناسبت کے لحاظ سے مداریوں کاسوال حذف کردیا اور صرف حضرت موسیٰ ؑ کا قول نقل کردیا۔کہ میری نسبت پھر دیکھا جائے گا پہلے تم اپنی امید پوری کرلو۔اور جو کچھ پھینکنا ہے پھینک لو۔چنانچہ مداریوں نے اپنی رسیّاں اور سونٹے پھینک دیئے اور فرعون کو خوش کرنے کے لئے کہا کہ فرعون کے اقبال سے ہم ہی غالب رہیں گے۔یہ الفاظ جو مداریوں کی زبان سے قرآن کریم میں استعمال کئے گئے ہیں قرآن کریم کی سچائی اور اس کے منجانب اللہ ہونے پر زبردست شاہد ہیں۔عیسائی پادری ہمیشہ کہا کرتے ہیں کہ قرآن کریم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بنائی ہوئی کتاب ہے۔ہم تو ان کے اس اعتراض کو غلط سمجھتے ہیں اور یقین