تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 391
پیدا ہو رہی ہے لیکن قربانی کی وہ روح انہیں توپ وتفنگ کی طر ف لے جاتی ہے۔بے شک موجودہ دور کا مسلمان آج سے سو یاپچاس سال قبل کے مسلمانوں کی نسبت زیادہ بیدار ہے لیکن وہ توپوں اور تلواروں کی طرف بھاگ رہاہے۔وہ حسرت سے ایٹم بم بنانے والوں کی طر ف دیکھ رہاہے اور اس امید میں ہے کہ وہ اسے بھی صدقہ کے طور پر کچھ ہتھیار دے دیں لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ذریعہ خدا تعالیٰ نے ہمیں بتایا کہ تمہاری توپ قرآن ہے۔تمہاری رائفل قرآن ہے۔تمہاری بندوق قرآن ہے تمہاراپستول قرآن ہے قرآن وہ ہتھیار ہے جس سے تم نے دنیا کاسر کچلنا ہے پس تم فتح کے لئے اس امر کے محتاج نہیںہو کہ انگلستان تمہیںتوپیں دے۔تم فتح کے لئے اس امر کے محتاج نہیں ہوکہ امریکہ تم پر مہربان ہو اور ایک دو ایٹم بم دے دے۔یا فرانس اورجرمن تمہیں کیمیاوی چیزیں پیدا کر کے دے بلکہ تمہارا کام یہ ہے کہ تم قرآن کریم لو اور دنیا کو فتح کرلو۔قرآن وہ کتاب ہے جو انسان کے دل میں خدا تعالیٰ کی خشیت پیدا کر کے اس کو خدا کی طرف لے جاتی ہے اور انسان کی جتنی طبعی اور روحانی ضرورتیں ہیں ان سب کو پوراکرتی ہے چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَ لَقَدْ صَرَّفْنَا لِلنَّاسِ فِيْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ (بنی اسرائیل:۰ ۹)ہم نے اس قرآن میں پھیر پھیر کر اور چکر دے دے کر اور نئے نئے اسلوب سے اور نئی نئی طرز سے تمام قسم کی فطرتوں کے لئے مضامین بیان کردیئے ہیں۔دنیامیں دو ہی چیزیں ہوتی ہیں جو کسی تعلیم کی برتری کو ثابت کرتی ہیں۔ایک یہ کہ ہر قسم کے مضامین اس میں بیان ہوں۔اور دوسرے یہ کہ مختلف طبقات میں سے ہر طبقہ کےلئے اس میں مضامین بیان ہوں اور یہ دونوں خصوصیتیں قرآن کریم میں پائی جاتی ہیں گویا کوئی انسان نہیں رہا جو قرآن کریم کا مخاطب نہ ہو اور کوئی بات نہیں رہی جو قرآن نے بیان نہ کی ہو۔جب ہر بات اس میںبیان کردی گئی ہے اور ہر قسم کے لوگوں کی فطرت کو ملحوظ رکھ کر اس میں تعلیم نازل کردی گئی ہے۔توپھر بنی نوع انسان کو اپنے خدا کی محبت او را س کا پیا رکیوں حاصل نہ ہو۔بیشک پرانے زمانہ میں موسیٰ ؑاور عیسیٰ ؑاور دوسرے نبیوں کو خدا ملا اور ہم اس پر ایمان رکھتے ہیں۔لیکن ہمارا دل اس سے تسلی نہیں پاتا۔ہم چاہتے ہیں کہ ہمیں بھی خدا تعالیٰ کی محبت حاصل ہو۔اور زندہ کتا ب وہی کہلا سکتی ہے جوزندہ خدا سے ہمار ا تعلق پیدا کردے۔اگر وہ ہمیں خدا سے نہیں ملاتی تو اس کتا ب کا وجود اور عدم ہمارے لئے برابر ہوجاتا ہے اور قرآن کہتا ہے کہ ہم نے ہر انسان کی روحانی ضرورتوںکے پوراکرنے کے سامان اس کتاب میں رکھ دیئے ہیں پس جو بھی سچے دل سے اس پر عمل کرے گا وہ اپنے خدا کو پالے گا۔اسی طرح فرماتا ہے وَاُوْحِیَ اِلَیَّ ھٰذَا الْقُرْاٰنُ لِاُنْذِرَکُمْ بِہٖ وَمَنْ بَلَغَ(الانعام : ۲۰)اے محمد رسول اللہ تو لوگوںسے کہہ دے کہ یہ قرآن میری طرف اس لئے وحی کیا گیا ہے