تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 390 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 390

پس جب کہ تمام گفتگو موسیٰ ؑ سے ہی ہوتی رہی اور موسیٰ ؑکی لاٹھی ہی سانپ بنی اور موسیٰ ؑکو ہی یہ کہاگیا کہ اگر فرعون اور اس کے درباری پہلے معجزہ کو دیکھ کر ایمان نہ لائے تو دوسرے معجزہ کو دیکھ کر ایمان لے آئیںگے تویہ کس طرح ہوسکتا تھا کہ فرعون کے دربار میں موسیٰ ؑکی بجائے ہارون اپنا عصا پھینک دیتے۔پس یہ بات بھی بائیبل کی اندرونی شہادت سے باطل قرار پاتی ہے اور صحیح بات وہی ثابت ہوتی ہے جو قرآ ن کریم نے کہی۔بہر حال یہ دو بڑے بھاری نشانات ہیں جو اللہ تعالیٰ نے موسیٰ ؑکے ہاتھ پر ظاہر کئے۔مگر اس امر کو تسلیم کرنے کے باوجود کہ حقیقتاً یہ ایک بہت بڑا نشان تھا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے سونٹا پھینکا اور وہ سانپ بن گیا یا حضرت موسیٰ علیہ السلام نے سونٹا مارا اور دریا پھٹ گیا یا حضرت موسیٰ علیہ السلام نے سونٹا مارااور چٹان سے پانی بہہ نکلا پھر بھی اس صداقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ موسیٰ ؑکے عصا کے مقابلہ میں اللہ تعالیٰ نے محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جوعصا عطا فرمایا وہ اتنا عظیم الشان ہے کہ موسیٰ کے عصا سے بحیرہ قلزم کا پھٹنا یا اُ ن کے عصا سے پتھر کی چٹانوں سے پانی بہہ نکلنا یا خود اُن کے عصا کا سانپ بن کر لوگوں کو دکھائی دینا اس کے مقابلہ میں کوئی حقیقت ہی نہیں رکھتا۔موسیٰ ؑ کاعصا بیشک بڑے بھاری نشانات کا حامل تھا مگر آج دنیا میں کہیں موسوی عصاکا نشان نہیں۔وہ عصا موسیٰ ؑکے ہاتھ میں رہا اور موسیٰ ؑکی وفات کے ساتھ ہی اس کی نشان نمائی کامعجزہ ختم ہوگیا مگر محمد رسول اللہ صلی علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے وہ عصا عطافرمایا جس پر انسانوں کی موت اور زمانہ کی گردشیں کوئی اثر نہیںکرسکتیں۔جسے دنیا کی بڑی سے بڑی حکومتیں بھی توڑنے کی طاقت نہیں رکھتیں۔اس عصاکو نہ کوئی زمینی کیڑا کھانے کی طاقت رکھتاہے اور نہ کوئی آسمانی صاعقہ اسے صفحہ ہستی سے معدوم کرسکتاہے۔وہ عصاجو آج بھی کفر کے سر کو پاش پاش کررہاہے اور قیامت تک شیطان کے پھیلائے ہوئے جالوں اور اس کی رسیو ںکو نگلتا چلاجائے گا۔قرآن کریم ہے جومحمد رسو ل اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم کو عطا کیا گیا۔اور مسلمانوں سے کہاگیاکہ جَاہِدْھُمْ بِہٖ جِھَادًا کَبِیْرًا (الفرقان :۵۳)اے مسلمانوتم قرآن کریم کو اپنے ہاتھ میںلو اور ا س کے ذریعہ کفّار سے جہاد کبیر کرو۔گویاقرآن کریم ایک کتاب ہی نہیں بلکہ وہ ایک کامیاب ہتھیار بھی ہے جس سے کفر و شیطنت کی پھیلائی ہوئی ظلمتوں کامقابلہ کیاجاسکتاہے اور بہ کہہ کربتایاکہ یہ قرآن بنی نوع انسان کامقصد بھی ہے اور ایصال مقصد کاذریعہ بھی ہے۔یعنی روحانی دلائل و براہین کے لئے یہ کسی دوسرے کی وکالت کا محتاج نہیں بلکہ خود ہی اپنے دعاوی کے دلائل بھی دیتاہے اور اس طر ح بنی نوع انسان کے عقلی اور فکری معیار کو بھی بلند کرتاچلاجاتاہے۔غرض قرآن وہ عظمت و شوکت اپنے اند ر رکھتاہے کہ اس کے ذریعہ تو پ و تفنگ کے بغیر بھی دنیاکو فتح کیاجاسکتا ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اب دوسرے مسلمانوں میں بھی بیداری اور قربانی کی روح