تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 389 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 389

نتیجہ نہیں تھی بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک نشان کے طور پر عطا کی گئی تھی۔بہرحال ان دونوں معجزات کا ذکر کرنے کے بعد بائیبل میں لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ’’ اوریوں ہوگا کہ اگر وہ تیرا یقین نہ کریں اور پہلے معجزہ ( یعنی لاٹھی کے سانپ بن جانے )کے معجزہ کو بھی نہ مانے تو وہ دوسرے معجزہ (یعنی ہاتھ کی سفید ی اور چمک )کے سبب سے یقین کریں گے۔‘‘ (خروج باب۴ آیت ۸) اب اگر لاٹھی کو سانپ کی شکل میں دیکھ کر فرعون ایمان لے آتا تو ہم تسلیم کرسکتے تھے کہ اسے دوسرا معجزہ دکھانے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔لیکن جب وہ ایمان ہی نہ لایا تو بائیبل کے خود اپنے بیان کے مطابق ضروری تھا کہ موسیٰ ؑاُسے یدِ بیضاء والا معجزہ بھی دکھاتے۔اور اگر وہ پھر بھی ایمان نہ لاتا تو اور معجزات دکھاتے جن کا بائیبل میں بھی ذکر آتا ہے اور قرآن کریم نے بھی ان کو بیا ن کیا ہے۔پس بائیبل کا ایک طرف یہ کہنا کہ اگر فرعو ن پہلے معجزہ کو دیکھ کر ایمان نہ لایا تو پھر دوسرا معجزہ اُسے دکھایا جائے بتا تا ہے کہ فرعون کے سامنے یہ دونوں معجزے دکھائے گئے تھے۔مگر بائیبل چونکہ انسانی دست برُد کاشکار رہی ہے اس لئے اس نے اس معجزہ کا ذکر تو کردیا اور دوسرے معجزہ کے دکھائے جانے کا کوئی ذکر نہ کیا۔لیکن خود اس کی اندرونی شہادت بتا رہی ہے کہ فرعون کے دربار میں یہ دونوں معجزات دکھانے کا اللہ تعالیٰ نے فیصلہ فرمایا تھا۔پس صحیح بات وہی ہے جو قرآن کریم نے کہی ہے اور بائیبل نے جو کچھ کہا ہے وہ خو د بائیبل کی اپنی شہادت سے ہی غلط ثابت ہوتا ہے۔باقی رہا بائیبل کا یہ کہنا کہ فرعون کے دربار میں موسیٰ ؑنے نہیں بلکہ ہارونؑ نے عصا پھینکا تھا۔(خروج باب۷ آیت ۱۰) یہ بھی بائیبل کی غلط بیانی ہے کیونکہ خود بائیبل خروج باب ۴ میں تسلیم کرتی ہے کہ خدا تعالیٰ نے ہارونؑ سے نہیں بلکہ موسیٰ ؑنے کہاتھا کہ ’’یہ تیرے ہاتھ میں کیاہے۔اُس نے کہا لاٹھی !پھر اُ س نے کہا کہ اِسے زمین پر ڈال دے۔اُس نے اُسے زمین پر ڈالا اور وہ سانپ بن گئی۔اور موسیٰ اس کے سامنے سے بھاگا۔تب خداوند نے موسیٰ سے کہا ہاتھ بڑھاکر اس کی دم پکڑ لے۔اُس نے ہاتھ بڑھایا اور اُسے پکڑ لیا۔وہ اس کے ہاتھ میں لاٹھی بن گیا۔‘‘ (خروج باب۴ آیت ۲,۴) پھر یہ بات بھی خدا تعالیٰ نے موسیٰ سے ہی کہی تھی کہ اگر وہ پہلے معجزہ کو نہ مانیں تو ’’وہ دوسرے معجزہ کے سبب سے یقین کریں گے۔‘‘(خروج باب ۴ آیت ۸)