تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 387
دیکھا کہ اس نور میں سےایک ہاتھ نکلا ہے جس میں ایک سفید چینی کا پیالہ ہے اور اس پیالہ میں دودھ بھرا ہوا ہے۔اس ہاتھ نے وہ پیا لہ مجھے پکڑا دیا اور میں نے وہ دودھ پی لیا۔جب میں وہ دودھ پی چکا تو میں نے دیکھا کہ نہ تو کوئی درد ہے اور نہ بخار بلکہ میں اچھا بھلا ہوں۔اور مجھے کوئی تکلیف نہیں ہے۔اسی طرح بعض دفعہ دوسروں کے جسم سے ایسی شعاعیں نکلتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں جن سے اُن کے اندرونی خیالات بے نقاب ہو جاتے ہیںاور پتہ لگ جاتا ہے کہ وہ سچے مومن ہیں یا نہیں۔میں نے کئی دفعہ دیکھا ہےکہ ایک شخص میرے ساتھ بات کرتا ہے اور میر ی روح اس کی روح سے ٹکرا کر معلوم کرلیتی ہے کہ یہ منافق کی روح ہے۔اسی طرح کئی ایسے ہوتے ہیں جو ظاہر میں بڑے اخلاص کا اظہار کرتے ہیں۔ہاتھ چومتے ہیں۔مگر اُن کے ہاتھ چومنے پر مجھے ایسا معلوم ہوتاہے کہ گویا انہوں نے ہاتھ کو نجاست لگا دی ہے اور ان کی باتیں ایسی معلوم ہوتی ہیں کہ گویا وہ گالیاں دے رہے ہیں۔کیونکہ قلوب کے اسرار بعض دفعہ توا للہ تعالیٰ اس طرح ظاہر کردیتا ہے کہ خود انسان کے منہ سے ایسی باتیں نکل جاتی ہیںجو اس کی قلبی کیفیت کا آئینہ دار ہوتی ہیں اور کبھی اس کے اندر سے باریک شعاعیں نکل کردوسروں کے قلوب پر پڑتی ہیں۔اور وہ چیز جسے وہ مخفی سمجھ رہا ہوتا ہے دوسرے پر ظاہر ہوجاتی ہیں۔کیونکہ خدا کے بندوں میں بعض ایسے بھی ہوتے ہیں کہ جن کی نظر باوجود انسانی ہونے کے لوگوں کے دلوں تک پہنچ جاتی ہے اور وہ چیز جو دنیا کے لئے پوشیدہ ہوتی ہے ان کے لئے ظاہر ہوجاتی ہے مگر چونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی ستّاری کی چادر اوڑھے ہوئے ہوتے ہیں اس لئے وہ ان کے عیب کو چھپا لیتے ہیں۔وہ ایسا اس لئے نہیں کرتے کہ اُن کے دل کا خیال اُن پر ظاہر نہیں ہوتا بلکہ اس لئے کرتے ہیں کہ خدا نہیں چاہتا کہ اُس کی ستّاری کی چادر کو اُٹھا دیا جائے۔مجھے یاد ہے قادیان میں ایک دفعہ ایک بہائی عورت آئی اور مختلف مسائل پر مجھ سے گفتگو کرتی رہی۔مگر اس پر کوئی اثرنہیں ہوتاتھا۔ایک دن اس سے باتیں کرتے ہوئے مجھے ایسا محسوس ہوا کہ میرے جسم سے کوئی چیز نکل کراس کے ساتھ ٹکراجاتی ہے لیکن آگے نہیں گذرتی۔آخر میں نے دعاکی تومیں نے دیکھا کہ وہ چیز جوا س کے ساتھ ٹکراتی تھی آگے نکلنے لگی ہے۔اس کانتیجہ یہ ہوا کہ یاتو وہ بڑے جوش سے باتیں کررہی تھی اور یاپھریکدم گھبرا گئی اور اس نے بحث بند کردی او ر کہنے لگی کہ میرا بچہ بیمار ہے اس لئے میںجاتی ہوں حالانکہ وہ اچھّا بھلاتھا۔غرض انبیاء اور اولیاء کے جسم سے مختلف قسم کی شعائیں نکلتی رہتی ہیںجو ان کے روحانی درجہ اور مقام کے مطابق مختلف رنگ کی ہوتی ہیں مگر یہ شعائیں مادی آنکھ سے دکھائی نہیںدیتیں بلکہ ان کے دیکھنے کے لئے کشفی نگاہ کی ضرورت ہوتی ہے جوا للہ تعالیٰ کے فضل سے ہی میسر آسکتی ہے۔یہی نور تھا جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ہاتھ سے