تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 35 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 35

کھڑا کرناکیسے جائز ہو سکتا ہے ؟ وَ قَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اِفْكُ ا۟فْتَرٰىهُ وَ اور کافر کہتے ہیں کہ یہ تو صرف ایک جھوٹ ہے جو اس نے بنالیا ہے اور اس کے بنانے پر ایک اور قوم نے اس کی اَعَانَهٗ عَلَيْهِ قَوْمٌ اٰخَرُوْنَ١ۛۚ فَقَدْ جَآءُوْ ظُلْمًا وَّ زُوْرًاۚۛ۰۰۵ مدد کی ہے۔پس ان لوگوں نے (یہ بات کہہ کر) بہت بڑا ظلم کیا ہے اور بہت بڑا جھوٹ بولا ہے۔اور وہ کہتے ہیں کہ یہ وَ قَالُوْۤا اَسَاطِيْرُ الْاَوَّلِيْنَ اكْتَتَبَهَا فَهِيَ تُمْلٰى عَلَيْهِ ( قرآن) تو پہلوں کی باتیں ہیں جو اس نے کسی سے لکھوالی ہیں اور اب وہ صبح شام اس کے سامنے پڑھ کر سُنائی جاتی بُكْرَةً وَّ اَصِيْلًا۰۰۶قُلْ اَنْزَلَهُ الَّذِيْ يَعْلَمُ السِّرَّ فِي ہیں( تاکہ وہ قرآن اچھی طرح لکھ لے) تو کہہ دے کہ اس( قرآن) کو تو اُس (خدا) نے اتارا ہے جو آسمانوں اور السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا۰۰۷ زمین کے رازوں سے واقف ہے۔وہ بہت بخشنے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے۔حلّ لُغَات۔اِفْکٌ۔اَلْاِفْکُ : اَلْکِذْبُ یعنی افک کے معنے کذب اور جھوٹ کے ہیں ( اقرب) زُوْر : اَلزُّوْرُ۔اَلْکِذْبُ۔جھوٹ۔اَلْبَاطِلُ باطل۔(اقرب) اَسَاطِیْرُ۔اَسَاطِیْرُاُسْطُوْرَۃٌ کی جمع ہے اور اُسْطُوْرَۃٌ کے معنے ہیں مَایُسْطَرُ جو چیز لکھی جاتی ہے۔وَتُسْتَعْمَلُ فِی الْحَدِیْثِ لَا نِظَامَ لَہ‘ وَالْحِکَایَاتُ نیز اساطیر اُن باتوں کو بھی کہتے ہیں جو بے ترتیب ہوں اور قصے کہانیوں کو بھی کہتے ہیں۔( اقرب) اِکْتَتَبَھَا۔اِکْتَتَبَھَا اِکْتَتَبَ الْکِتَابَ کے معنے ہیں خَطَّہٗ کتاب کو لکھا۔وَقِیْلَ اِسْتَمْلَا ہٗ بعض ماہرین لُغت نے کہا ہے کہ اِکْتَتَبَ کے معنے ہیں کسی سے کتاب کو لکھوایا۔نیز اس کے معنے ہیں اَمَرَاَنْ یَّکْتُبَ لَہٗ۔کسی کو حکم دیا کہ وہ اس کے لئے فلاں بات لکھ دے ( اقرب) پس اِکْتَتَبَھَا کے معنے ہوںگے اُس نے لکھ لیا ہے یا