تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 34
اسی طرح حضرت مسیح ؑ نے ایک موقعہ پر کہا کہ ’’ لومڑیوں کے بھٹ ہوتے ہیں اور ہوا کے پرندوں کے گھونسلے مگر ابن آدم کے لئے سر دھرنے کی بھی جگہ نہیں۔‘‘ ( متی باب ۸ آیت ۲۰) اس فقرہ میں بھی حضرت مسیح ؑ نے اپنے عجز اور بیچارگی کا اقرار کیا ہے اور بتایا ہے کہ میرے لئے تو دنیا میں سر چھپانے کی بھی جگہ نہیں اور جس شخص کی یہ کیفیت ہو۔اس کے متعلق یہ کس طرح تسلیم کیا جا سکتا ہے کہ وہ اپنے اندر خدائی صفات رکھتا تھا۔پھر فرماتا ہے وَلَا یَمْلِکُوْنَ مَوْتًا وَّلَا حَیٰوۃً وَّلَا نُشُوْرًا۔یہ لوگ نہ تو موت کے مالک ہیں نہ زندگی کے اور نہ پھر جی اٹھنے کے۔موت و حیاۃ کے لحاظ سے اشیاء کے تین درجے ہی ہوتے ہیں (۱) عدم حیات یعنی موت (۲) حیات بالقوۃ یعنی حیات (۳) حیات بالفعل یعنی نشور۔مگر چونکہ یہاں معبودانِ باطلہ کا رد کیا جارہا ہے اس لئے وَلَا یَمْلِکُوْنَ مَوْتًا میں اس طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ اگر یہ لوگ اپنے اندر خدائی طاقتیں رکھتے تو کم ازکم موت سے ہی بچ جاتے مگر ان میں سے ہر معبو د کہلانے والا موت کا شکار ہوا اور عیسائیوں نے تو اپنے بنیادی عقیدوں میں ہی شامل کر لیا کہ مسیح ؑ تین دن مر کر جہنم میں رہا ( ۲۔پطرس باب ۳ آیت ۱۸،۲۰و تفسیر بائیبل مصنفہ میتھیوپول جلد ۳ صفحہ ۹۱۱) پس جب موت کے زبردست ہاتھ سے بھی اُن کی روحیں آزاد نہیں تھیں تو وہ خدا کس طرح ہوئے۔پھر ان کی زندگیوں کو دیکھوتو قدم قدم پر معلوم ہوگا کہ وہ ایک بالا قانون کے تابع تھے اور تمام بنی نوع انسان کی طرح کھانے پینے کے محتاج تھے۔بیماریوں کا شکار ہوتے تھے۔مشکلات میں مبتلا ہوتے تھے اور جب اُن کی زندگیاں بتارہی ہیں کہ انہوں نے اپنی تمام عمر احتیاج میں گذاری تو ان کو خدا قرار دینا کس طرح درست ہو سکتا ہے۔اس کے بعد فرماتا ہے کہ انہیں تو یہ بھی معلوم نہیں کہ وہ کب اٹھائے جائیں گے۔یعنی نہ تو نفع کے حصول اور ضرر سے اجتناب پر ان کو کوئی قدرت حاصل تھی نہ موت کے پنجہ سے وہ چھوٹ سکا نہ زندگی کے ایک ایک لمحہ اور ثانیہ میں وہ لوگ اللہ تعالیٰ کے مقرر کر دہ قانون سے آزاد ہوئے بلکہ انہیں تو یہ بھی معلوم نہیں کہ وہ کب اٹھائیں جائیں گے یعنی غیب پربھی ان کو کوئی دسترس حاصل نہیں جیسا کہ حضرت مسیح ؑ نے کہا کہ ’’اس دن یا اس گھڑی کی بابت کوئی نہیں جانتا۔نہ آسمان کے فرشتے نہ بیٹا مگر باپ۔(مرقس باب ۱۳ آیت ۳۲،۳۳) پس جب کہ کوئی ایک بات بھی ان میں خدائی کی نہیں پائی جاتی تو انہیں خدا تعالیٰ کی وحدانیت کے مقابلہ میں