تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 376 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 376

میں ذکر آتا ہے کہ آپ کا ایک رضائی بھائی ایک دن دوڑتا ہوا اپنے والدین کے پاس آیا اور اس نے کہا کہ ہمارے بھائی (یعنی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) پر کسی نے حملہ کردیا ہے۔حلیمہ جلدی سے باہر گئیں تو انہوں نے دیکھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے ہیں۔حلیمہ نے دریافت کیا کہ کیا ہوا تھا ؟آپؐ نے فرمایا۔ابھی تین آدمی آئے تھے۔جنہوں نے میرا سینہ چیرا اور میرے دل کودھوکر اندر رکھ دیا اور پھر چلے گئے (السیرة النبویة لابن ہشام ولادة رسول اللہ و رضاعتہ) اب یہ بھی ایک کشفی نظارہ تھا۔جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے دیکھا۔اور حلیمہ کے بیٹے نے بھی اس نظارے کو دیکھ لیا ورنہ خدا تعالیٰ کے ملائکہ کسی کے دل کی صفائی کے لئے ظاہری چیرپھاڑ کے محتاج نہیں ہوتے۔اسی طرح حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک رات مدینہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں سورہے تھے۔جب آپؐ تہجد کے لئے اٹھے اور وضو فرمانے لگے تو مجھے آواز آئی کہ آپؐ فرمارہے ہیں لَبَّیْکَ۔لَبَّیْکَ۔لَبَّیْکَ۔اس کے بعد آپؐ نے فرمایا۔نُصِرْتَ۔نُصِرْتَ۔نُصِرْتَ۔وہ کہتی ہیں۔جب آپ میرے پاس تشریف لائے تو میںنے کہا۔یا رسول اللہ !کیا کوئی آدمی آیا تھا اور آپ اس سے باتیں کررہے تھے؟آپ نے فرمایا۔ہاں میرے سامنے کشفی طور پر خزاعہؔ کا ایک وفد پیش ہوا اور میں نے دیکھا کہ وہ شور مچاتے چلے آرہے ہیں کہ ہم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اُس کے خدا کی قسم دے کر کہتے ہیں کہ تیرے ساتھ اور تیرے باپ دادوں کے ساتھ ہم نے معاہدے کئے تھے اور ہم تیری مدد کرتے چلے آئے ہیں۔مگر قریش نے ہمارے ساتھ بد عہدی کی۔اور رات کے وقت ہم پر حملہ کرکے جبکہ ہم میں سے کوئی سجدہ میںتھا اور کوئی رکوع میں ہم کو قتل کردیا۔اب ہم تیری مد د حاصل کرنے کے لئے آئے ہیں جب کشفی طور پر مجھے وہ وفد نظر آیا تو میں نے لَبَّیْکَ۔لَبَّیْکَ۔لَبَّیْکَ۔میں تمہاری مدد کے لئے حاضر ہوں۔میں تمہاری مدد کےلئے حاضر ہوں۔میں تمہاری مدد کے لئے حاضر ہوں۔پھر میں نے کہا۔نُصِرْتَ۔نُصِرْتَ۔نُصِرْتَ۔تجھے مدد دی جائے گی۔تجھے مدد دی جائے گی۔تجھے مدد دی جائے گی(السیرة الحلبیة فتح مکة شرفھا اللہ)۔ا ب دیکھو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک کشفی نظارہ دیکھ رہے ہیں اور کشفی حالت میں ہی آپ لَبَّیْکَ۔لَبَّیْکَ۔لَبَّیْکَ کہتے ہیں اورپھر تین دفعہ نُصِرْتَ۔نُصِرْتَ۔نُصِرْتَ کہتے ہیں۔اور یہ آواز حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا بھی سن لیتی ہیں۔اور وہ آپ سے دریافت فرماتی ہیں کہ کیا کوئی آدمی تھا جس سےآپ باتیں کررہے تھے۔اور آپؐ فرماتے ہیں۔یہ ایک کشفی نظارہ تھا۔یہ واقعہ بھی اس بات کا ثبوت ہے کہ کشفی حالت میں بعض دفعہ دوسرے لوگ بھی شریک کرلئے جاتے ہیں۔اب گو حضرت میمونہ ؓ نے وہ وفد نہیں دیکھا۔مگر انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ جواب سن لیا جو آپؐ نے کشفی حالت میں خزاعہؔ کے وفد کو دیا تھا۔اورپھر چند دن بعد ایسا ہی