تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 375
کے ایک چیز کو صاف صاف دیکھ لیتا ہے۔بلکہ بعض اوقات عین بیداری میں باذنہٖ تعالیٰ اس کی آواز بھی سن لیتا ہے اور اس سے زیادہ تر تعجب کی بات یہ ہے کہ بعض اوقات وہ شخص بھی اس کی آواز سن لیتا ہے جس کی صورت اس پر منکشف ہوتی ہے۔بعض اوقات صاحب کشف اپنے عالم کشف میں جو بیداری سے نہایت مشابہ ہے ارواح گذشتہ سے ملاقات کرتا ہے اور عام طور پر ہر یک نیک بخت روح یابدبخت روح کے ساتھ کشفِ قبور کے طور پر ہو سکتی ہے۔چنانچہ خود اس میں مولّف رسالہ ہذا صاحبِ تجربہ ہے اور یہ امر ہندوئوں کے مسئلہ تناسخ کی بیخ کنی کرنے والا ہے اور سب سے تعجب کا یہ مقام ہے کہ بعض اوقات صاحبِ کشف اپنی توجہ اور قوت تاثر سے ایک دوسرے شخص پر باوجود صدہا کوسوں کے فاصلہ کے باذنہٖ تعالیٰ عالم بیدار ی میں ظاہر ہوجاتا ہے حالانکہ اس کا وجود عنصری اپنے مقام سے جنبش نہیں کرتا۔اور عقل کے زور سے ایک چیز کا دوجگہ ہونا محال ہے۔سووہ محال اس عالمِ ثالث میںممکن الوقوع ہوجاتا ہے۔‘‘ (حاشیہ سُرمہ چشم آریہ ،روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ۱۷۸) اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بعض اور بھی ایسے کشوف ہوئے ہیں جن میں اللہ تعالیٰ نے دوسروں کوبھی شریک کرلیا۔مثلاً حدیثوں میں آتا ہے کہ ایک دفعہ محمد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مجلس میں تشریف رکھتے تھے کہ ایک اجنبی شخص جس پر سفر کے کوئی آثار معلوم نہیں ہوتے تھے آیا۔اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دوزانو ہو کر بیٹھ گیا۔اور پھر اُس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ یارسول اللہ ایمان کی کیا تعریف ہے؟اسلام کے کون کون سے ارکان ہیں ؟ احسا ن کس مقام کا نام ہے؟ قیامت کی کیاکیا نشانیاں ہیں ؟رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے ہر سوال کا جواب دیتے رہے۔جب وہ چلا گیا تو آپ نے صحابہ سے فرمایا کہ یہ جبریل تھا جو تمہیں دینی مسائل سکھانے کیلئے آیا تھا۔(ترمذی ابواب الایمان باب ما جاء فی وصف جبریل للنبی صلی اللہ علیہ وسلم الایمان و اسلام) اب یہ بھی ایک کشف تھا جس کے دائرہ کو اتنا وسیع کردیا گیا کہ صحابہؓ نے بھی جبریل کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے باتیں کرتے دیکھ لیا۔اِسی طرح جنگِ بدر کے موقعہ پر اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی تائید کےلئے جو ملائکہ نازل فرمائے۔وہ کشفی حالت میں جہاں بعض صحابہؓ کو دکھائی دیئے وہاں کفار نے بھی اُن کو دیکھا اور پھر انہوں نے اپنی مجالس میں بھی اس کا حیرت کےساتھ ذکر کیا۔(تفسیر ابن جریر زیر آیت اذ تقول للمؤمنین۔۔۔وتفسیر فتح البیان زیر آیت اذتقول للمومنین) اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب بچپن میں اپنی دائی حلیمہ کے ہاں پرورش پا رہے تھے تو روایات