تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 368 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 368

اس طاقت کو پہنچانا شروع کردیتے ہیں جو خدا تعالیٰ نےان کے سپرد کی ہوتی ہے اور انہیں اپنے انجام کا کوئی خوف نہیں ہوتا۔نادان انسان جو ان کی پشت پر اللہ تعالیٰ کا ہاتھ دیکھنے سے قاصر ہوتا ہے وہ انہیں جب اپنے مقصد کے لئے ایسے جوش سے کام کرتا دیکھتا ہے جو بظاہر عقل کے خلاف ہوتا ہے تو انہیں پاگل کہنا شروع کردیتا ہے۔علم النفس کے ماہرین نے بھی جنون کی مختلف کیفیات پر بحث کرتے ہوئے لکھا ہے کہ جب جنون پیدا ہوتا ہے تو انسان اپنے گردوپیش کے تمام حالات کو بھلا دیتا ہے اور اپنے کام کے متعلق اس میں اس قدر انہماک پیدا ہوجاتا ہے کہ وہ کسی دوسری چیز کی پرواہ ہی نہیں کرتا۔مجھے یاد ہے حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں ایک عورت جو اُستانی تھی پاگل ہوگئی۔درمیان میںکبھی کبھی اس کی حالت درست بھی ہو جایاکرتی تھی۔ایک دفعہ عورتوں میں درس ہورہاتھا اور وہ بھی درس میں شامل تھی کہ یکدم اس عورت کو جنون کا دورہ ہوا اور کھڑکی میں سے کود کر نیچے گرنے لگی۔حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ نے اُٹھ کر اسے پکڑ لیا۔یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃو السلام کی وفات کے دوچار ماہ بعد کا واقعہ ہے جبکہ ابھی حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ گھوڑے سے نہیں گرے تھے۔اور آپ میں اتنی طاقت تھی کہ بعض دفعہ آپ اپنا ہاتھ بڑھا کر فرمایا کرتے تھے کہ کوئی اسے ٹیڑھا کرکے دکھادے۔آپ نے اٹھ کر اس عورت کوپکڑ لیا۔لیکن باوجود سارا زور لگانے کے وہ دُبلی پتلی عورت آپ کے ہاتھو ں سے نکلی جاتی تھی۔اس پر آپ نے عورتوں کو آواز دی کہ یہ تو گرنے لگی ہے میری مدد کیلئے آئو۔پھرپانچ سات عورتوں نے آپ کے ساتھ مل کر اسے باندھا حالانکہ عقل اور ہوش کے زمانہ میں اس کو سترہ اٹھارہ سال کا بچہ بھی پکڑ سکتا تھا۔اس کی وجہ یہی ہے کہ عقلمند انسان سمجھتاہے کہ اگر ایک خاص حد سے زیادہ اُس نے اپنی طاقتوں کو استعمال کیا تو اُسے نقصان پہنچے گا لیکن پاگل کا دماغ اُسے حد سے زیادہ طاقت خرچ کرنے سے نہیں روکتا۔یہی وجہ ہے کہ پاگلوں میں بہت زیادہ طاقت آجاتی ہے اور ایک ایک پاگل کو آٹھ آٹھ دس دس آدمی مل کر پکڑتے ہیں۔تب وہ قابو میں رہتاہے پس چونکہ پاگلوں میں یہ خصوصیت پائی جاتی ہے کہ وہ بسا اوقات ایسے جوش سے کام کرتے ہیں جو عقل کے خلاف ہوتا ہے۔اس لئے جب لوگ اللہ تعالیٰ کے نبیوںکو دیکھتے ہیں کہ وہ زمانہ کی رو کے بالکل خلاف آواز اٹھا رہے ہیںاور اپنے مقصد کو پورا کرنے کے لئے انہیں کسی قسم کی ہلاکت اور تباہی کی پروا نہیں تو وہ سمجھتے ہیںیہ لوگ پاگل ہیں اگر عقلمند ہوتے تو رائے عامہ کے خلاف اپنی آواز کیوںبلند کرتے۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب مبعوث ہوئے اور آپؐ نے مکہ والوں کے سامنے یہ بات پیش کی کہ ایک خدا کی پرستش کرو تو عرب کے لوگ جولاتؔ اور مناۃؔ اور عزّیٰؔ کے پرستارتھے ان کے لئے یہ بات حیرت کا موجب ہوئی اور انہوں نے یہ کہنا شروع کردیا کہ یہ شخص تو پاگل ہے جواتنے خدائوں کو ایک