تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 367
حَوْلَهٗۤ اَلَا تَسْتَمِعُوْنَ۰۰۲۶قَالَ رَبُّكُمْ وَ رَبُّ اٰبَآىِٕكُمُ اگر تم میں یقین کرنے کی خواہش ہے۔اس پر اس (فرعون) نے اپنے اردگرد کے لوگوں سے کہا۔کیاتم سنتے نہیں الْاَوَّلِيْنَ۰۰۲۷قَالَ اِنَّ رَسُوْلَكُمُ الَّذِيْۤ اُرْسِلَ اِلَيْكُمْ (کہ موسیٰ کیا کہتاہے) (موسیٰ ؑ نے اپنے پہلے بیان کی تشریح کرتے ہوئے )جواب دیا۔وہی جو تمہارا بھی رب ہے لَمَجْنُوْنٌ۰۰۲۸ ،اور تمہارے پہلے باپ دادوں کا بھی رب تھا۔(اس پر فرعون) بولا۔(اے لوگو!) تمہارا وہ رسول جو تمہاری طرف بھیجا گیا ہے ضرور پاگل ہے۔تفسیر۔حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جب فرعون کویہ جواب دیا تو اس نے کھسیانے ہو کر کلام کا موضوع ہی بدل دیا۔اور کہنے لگا۔اچھا ان باتوں کو جا نے دو۔تم یہ بتائو کہ تم جو کہہ رہے ہو کہ میں رب العالمین خدا کی طرف سے رسول بن کر آیا ہوں تو یہ رب العالمین خدا کون ہے ؟ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا۔رب العالمین وہ خدا ہے جو آسمان اور زمین اور جوکچھ ان دونوں کے درمیان ہے اُن کا ربّ ہے اگر تم یقین لانے والوں میں سے بنو۔تو یہ دلیل تمہارے لئے بڑی کافی ہے۔فرعون اپنے گردوپیش کے لوگوں سے کہنے لگا۔سُنتے ہو یہ کیسی بیو قوفی کی باتیں کرتا ہے حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا۔اگر آسمان اورزمین کے بنانے والے کو تم نہیں سمجھ سکتے تو پھر یہی دلیل سمجھ لو کہ تمہاری اور تمہارے گذشتہ باپ دادوں کی بھی تو کسی نے پرورش کی تھی۔وہ رب العالمین خدا ہے۔فرعون اس دلیل کی طاقت سے جھنجھلا اٹھا اور گالیوں پر اُتر آیا۔اور اپنے ساتھیوں سے کہنے لگا۔یہ شخص جو تمہاری طرف رسول ہو کر آنے کا دعویٰ کرتا ہے یقیناً پاگل ہے۔اس کا مطلب جیسا کہ سورئہ نازعات سے ظاہر ہے یہ تھا کہ اے فرعونیو ! تمہارا رب تو میں ہوں۔یہ موسٰی رب العالمین خداکہاں سے لے آیا ہے اور چونکہ میں اس کے سامنے اپنے خیالات کا اظہار کرچکا ہوں اور اس کے باوجود یہ اپنے عقیدے پر قائم رہا ہے اس لئے معلوم ہوتاہے کہ اس کے دماغ میں کچھ نقص ہے جو اپنے دعویٰ پر اس قدر اصرار کررہا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ آج تک دنیامیں خدا تعالیٰ کا کوئی بھی نبی نہیں آیا جسے اس کے مخالفوں نے پاگل نہ کہاہوکیونکہ جس طرح مجنون انسان اپنی انتہائی طاقت استعمال کردیتا ہے اور اُسے اپنے انجام کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی اسی طرح اللہ تعالیٰ کے انبیاء بھی ہر قسم کے ڈر اور خوف اور لالچ سے بے نیاز ہوکر