تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 33
میں اس قدر احتیاج الی الغیر پائی جاتی ہو کہ جب تک کوئی اور ہستی انہیں پیدا نہ کرتی وہ اس دنیا میں آبھی نہیں سکتے تھے۔انہوں نے خدائی کیا کرنی ہے کیا خدا تعالیٰ کو بھی کوئی پیدا کیا کرتا ہے ؟ اور جب تمہیں نظر آتا ہے کہ جن ہستیوں کو یہ لوگ خدا تعالیٰ کا شریک قرار دیتے ہیں۔وہ سب کی سب مخلوق ہیں۔حضرت مسیح ؑ بھی مریم کے پیٹ سے پیدا ہوئے۔اور بہاء اللہ جن کو مدعی اُلوہیت قرار دیا جاتا ہے۔وہ بھی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوئے اسی طرح وہ تمام پیر اور فقیر اور سجادہ نشین جن کی قبروں پر سجدہ کیا جاتا ہے وہ بھی اپنی اپنی مائوں کے پیٹ سے ہی پیدا ہوئے تو وہ خدا کس طرح ہوئے ؟ یا اُن کی قبروں پر سجدہ کرنا کس طرح جائز ہو گیا ؟ پھر ایک اور دلیل اللہ تعالیٰ اُن کے خلاف دیتا ہے اور فرماتا ہے کہ یہ لوگ جن کو تم معبود قرار دیتے ہو ان کی تو یہ حالت ہے کہ زندگی بھر نہ تو اُن میں یہ طاقت تھی کہ کسی دُکھ اور تکلیف سے اپنی خدائی کی وجہ سے بچ سکتے اور نہ اُن میں یہ طاقت تھی کہ بغیر خارجی ذرائع کی امداد کے کوئی نفع حاصل کر سکتے۔اگر یہ دُکھوں سے بچتے تھے تو بیرونی ذرائع کی امداد سے اور اگر نفع حاصل کرتے تھے تو بیرونی اسباب کے ذریعہ۔پھر جو لوگ اس قدر کمزور تھے کہ وہ بات بات میں دوسرے ذرائع اور اسباب کے محتاج تھے اُن کو خداقرار دینا کتنی کوتاہ عقلی اور نادانی کا ثبوت پیش کرنا ہے۔حضرت مسیح ناصری کو ہی دیکھ لو اگر ضر ر سے بچنے کی اُن میں طاقت ہوتی تو دشمن انہیں صلیب پر کیوں چڑھاتا اور کیوں انہیں کہنا پڑتا کہ ’’ ایلی ایلی لما سبقتنی یعنی اے میرے خدا اے میرے خدا ! تُو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا۔‘‘ ( متی باب ۲۷ آیت ۴۶) اور اگر اپنے لئے وہ ہر قسم کا آرام اور فائدہ اپنے زورِبازو سے حاصل کر سکتے تھے تو جب شیطان انہیں جنگل میں آزمانےکے لئے لے گیا تو وہ چالیس دن بھوکے کیوں رہے اور کیوں انہوں نے یہ کہا کہ ’’ آدمی صرف روٹی ہی سے جیتا نہ رہےگا بلکہ بات سے جو خدا کے منہ سے نکلتی ہے۔‘‘ ( متی باب ۴ آیت ۴) اگر اُن میں یہ طاقت تھی کہ وہ اپنے آپ کو فائدہ پہنچا سکتے تو چالیس دن کا فاقہ انہیں کیوں برداشت کرنا پڑتا ؟ حقیقت تو یہ ہے کہ یہ ایک کشف تھا جس کو عیسائیوں نے ظاہر پر محمول کر لیا۔ورنہ اگر وہ حضرت مسیح ؑ کو واقعہ میں پہاڑ پر لے جاتاتو لوگوں کو شیطان بھی نظرآ تا اور اُن کا پہاڑ پر جانا بھی نظر آتا اور پھر حواری ان کو اکیلا کس طرح چھوڑ دیتے لازماً وہ بھی ساتھ جاتے۔پس درحقیقت یہ ایک کشف یا خواب کا نظارہ تھا جس کو ظاہر پر محمول کر کے مضحکہ خیز بنا دیا گیا ہے۔