تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 364 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 364

حبشہ کی عیسائی حکومت کے سایہ تلے پناہ دی حالانکہ اسی حکومت کے ایک گورنر ابرہہ نے بیت اللہ پرحملہ کیاتھا۔موجودہ زمانہ میں بھی اللہ تعالیٰ نے پھر اسی تدبیر سے کام لیااور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو انگریزوں کے زیر سایہ رکھاحالانکہ آپ عیسائیت کی بیخ کنی کے لئے مبعوث فرمائے گئے تھے۔نادان لوگ اس پر اعتراض کرتے ہیں۔مگروہ نہیں دیکھتے کہ کیا خدا نے موسیٰ ؑ کو فرعون کے زیر سایہ نہیں رکھا۔کیاخدا نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہؓ کو ایک عیسائی حکومت کے زیرسایہ نہیں رکھا۔کیاخود محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے ثقیف قوم کے زیرسایہ نہیں رکھا۔پھراگران کاوہاں پرورش پانا قابل اعتراض امر نہیں توحضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کاانگریزوں کے زیر سایہ ترقی کرنا کس طرح قابل اعتراض ہوگیا۔یہ تواللہ تعالیٰ کا نشان ہے کہ وہ اپنے انبیاء کو خود ان کے دشمنوں کے زیرسایہ رکھ کر ترقی عطافرماتا ہے اوراس طرح دنیا پرثابت کردیتاہے کہ اس کے ارادوں کوکوئی شخص روک نہیں سکتا۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کے واقعہ پر ہی غو ر کرکے دیکھ لو کجا یہ کہ فرعون نے حکم دے دیاتھا کہ بنی اسرائیل کاکوئی بچہ زندہ نہ رہے اورکجایہ کہ تصرف الٰہی کے ماتحت اس نے خو د اپنے گھرمیںحضر ت موسیٰ علیہ السلام کی پرورش کی۔گویاوہی جس کی خاطر بچے مارے جاتے تھے اس کی چھاتیوں پر چڑھ کرموسیٰ ؑبڑھا اورپھولااورپھلا اورآخراسی موسیٰ ؑکی مخالفت نے فرعون کو تباہ و برباد کردیا کیونکہ حضرت موسیٰ ؑکی والدہ نے خدا تعالیٰ کی بات پر اعتبار کرکے اپنے بچے کو دریامیں ڈال دیاتھا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی والد ہ نے کئی قسم کی احتیاطوں کے ساتھ ان کو دریا میں ڈالا مگر کون ہے جو اس سے سوگنازیادہ احتیاط کرکے بھی اپنے بچہ کو دریامیں پھینکنے کے لئے تیار ہو سکتا ہے۔انہوں نے خدا کاحکم پوراکرنے کے لئے اس موت کو قبول کرلیا۔جس کانتیجہ یہ ہواکہ خدا نے موسیٰ ؑکو ہمیشہ کے لئے زندہ کردیا اوروہ جس کے متعلق خطرہ تھاکہ دریا کی لہروں میں وہ کہیں غرق نہ ہوجائے خدا اسے بچاکر فرعون کے گھر میں لے گیا۔اوراس کی روٹیا ںکھاکھاکر اوراس کے گھر کادودھ پی پی کر اوراسی کے کندھوں پرچڑھ چڑھ کراس نے تربیت حاصل کی۔اورآخرایک دن وہ تمام بنی اسرائیل کو فرعون کے پنجہ سے بچاکرلے آیا۔اورفرعون اپنے لائولشکر سمیت غرق ہوگیا۔اسی پرورش کا اس نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو طعنہ دیااورپھر کہا کہ وَ فَعَلْتَ فَعْلَتَكَ الَّتِيْ فَعَلْتَ وَ اَنْتَ مِنَ الْكٰفِرِيْنَ۔اس دوران میں تجھ سے وہ فعل بھی سرزد ہواجس کا تجھے خوب علم ہے یعنی قبطی قوم کا ایک آدمی تیرے ہاتھ سے ماراگیااورتویقیناًناشکروں میں سے ہے۔اس جگہ اَنْتَ مِنَ الْكٰفِرِيْنَ سے مراد یہ نہیں کہ توکافروں میں سے ہے۔بلکہ اس کامطلب یہ ہے کہ توسخت ناشکرانکلاکہ تونے ایک محسن قوم کاآدمی مارڈالا۔حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا کہ پہلے تمام حالات پرغورکرو اورپھر