تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 361 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 361

کُنْتَ السَّوَادَ لِنَاظِرِیْ فَعَمِیْ عَلَیَّ النَّاظِرُ مَنْ شَاءَ بَعْدَکَ فَلْیَمُتْ فَعَلَیْکَ کُنْتُ أُحَاذِرُ لیکن ابو جہل جس کی پیدائش پر ہفتوں اونٹ ذبح کرکے لوگوں میں گوشت تقسیم کیاگیا تھا جس کی پیدائش پر دفوں کی آواز سے مکہ کی فضاگونج اٹھی تھی۔بد رکی لڑائی میں جب ماراجاتاہے تو پندرہ پندرہ سال کے دوانصار ی چھوکرے تھے جنہوں نے اسے زخمی کیا حضرت عبداللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں کہ جنگ کے بعد جب لو گ واپس جارہے تھے۔تومیں میدان میں زخمیوں کو دیکھنے کے لئے چلا گیا۔آپ بھی مکہ ہی کےتھے اس لئے ابوجہل آپ کو اچھی طرح جانتاتھا۔آپ فرماتے ہیں کہ میں میدان جنگ میں پھر ہی رہاتھا کہ کیا دیکھتا ہوں کہ ابو جہل زخمی پڑاکراہ رہاہے۔جب میںاس کے پاس پہنچا تواس نے مجھے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میں اب بچتانظر نہیں آتا تکلیف زیادہ بڑھ گئی ہے۔تم بھی مکہ والے ہو میں یہ خواہش کرتاہوں کہ تم مجھے مار دوتامیری تکلیف دور ہوجائے لیکن تم جانتے ہوکہ میں عرب کا سردار ہوں اورعرب میں یہ رواج ہے کہ سرداروں کی گردنیں لمبی کرکے کاٹی جاتی ہیں اوریہ مقتو ل کی سرداری کی علامت ہوتی ہے۔میری یہ خواہش ہے کہ تم میری گردن لمبی کرکے کاٹنا۔حضرت عبداللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں کہ میں نے اس کی گردن ٹھوڑ ی سے کا ٹ دی اورکہا کہ تیری یہ آخری حسرت بھی پوری نہیں کی جائے گی(بخاری کتاب المغازی باب قتل ابی جہل ،السیرة الحلبیة ذکر مغازیہ باب غزوۃ بدر الکبری)۔اب انجام کے لحاظ سے دیکھوتوابوجہل کی موت کتنی ذلت کی موت تھی۔جس کی گر دن اپنی زندگی میں ہمیشہ اونچی رہاکرتی تھی۔وفات کے وقت اس کی گردن ٹھوڑی سے کاٹی گئی اوراس کی یہ آخری حسر ت بھی پوری نہ ہوئی۔پھرچونکہ کفار رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے راستہ میں گڑھے کھوداکرتے تھے اورمسلمانوںکو پتھروں پر گھسیٹتے تھے اورآپؐ کی یہ پیشگوئی تھی کہ ایک دن ان کفارکو بھی بالوں سے پکڑ پکڑ کرگھسیٹاجائے گا(العلق:۱۶،۱۷ )اس لئے بد ر کی جنگ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہؓ کو حکم دیاکہ کفار کی لاشوں کو ایک اندھے کنوئیں میں گرادیاجائے۔آپؐ کے اس حکم کے مطابق صحابہؓ نے کفار کی لاشوں کو گھسیٹ گھسیٹ کر ایک اندھے کنوئیں میں پھینک دیا ( السیرة النبویۃ لابن ہشام ذکر رؤیا عاتکة بنت عبد المطلب)۔غرض رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اورابوجہل دونوں کی پیدائش اوروفات کو دیکھا جائے تومعلوم ہوتاہے کہ پیدائش کے وقت جو ناقابل التفات نظر آتاتھا وفات کے وقت وہ سید عرب بنا۔لیکن جو سید عرب نظر آتاتھا وفات کے وقت وہ نہایت ہی ذلیل وجو د ثابت ہوا۔غرض بعض دفعہ ایک چیز کی ابتداء اورہوتی ہے اورانتہا اور۔