تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 360 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 360

’’ وہ پتھر جسے معماروں نے ناپسند کیا وہی کونے کاسراہوا۔‘‘ (مرقس باب۱۲ آیت ۱۰و لوقاباب ۲۰آیت ۱۷) سارے عرب قبائل آپ کے زیر سایہ تھے جو آپ سے پہلے کسی بادشاہ کے مطیع نہیں ہوئے تھے۔پھر بادشاہوں کو جوظاہری عظمت حاصل ہوتی ہے اس کی وجہ سے ڈر کے مارے لوگ ان کی بڑائیاں بیان کرتے ہیں لیکن دل میں انہیں ہزاروں ہزار گالیاں دیتے ہیں۔بادشاہ جب مرجاتے ہیں توبے شک ان کی موت سے ملک کوصدمہ بھی ہوتاہے لیکن لوگ یہی کہتے ہیں کہ ایک بادشاہ اگر مر گیاہے تو کو ئی دوسر اشخص بادشاہ بن جائے گا اوروہ وہی کام شروع کردے گا جو پہلا بادشاہ کرتاتھا۔انگریزی میں ایک مثل ہے KING NEVER DIES ( 3000 proverbs by Same Philips p۔87 under word KING ) یعنی بادشاہ کبھی نہیں مرتے۔ایک بادشاہ مرجاتاہے تودوسراکھڑاہو جاتا ہے اورپہلے بادشاہ اور دوسرے بادشاہ میں کوئی نمایاں فرق نہیں ہوتا۔اگر قوم بیدار ہوتی ہے تودوسرے بادشاہ کے وقت میں بھی وہ ترقی کرتی چلی جاتی ہے۔لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق یہ نہیں کہاجاسکتا۔آپ کی وفات کو تمام عر ب نے جو اس وقت آپؐ کی خوبیوں ،اہمیت اورعظمت کا قائل ہوچکا تھا ایک انسان کی موت خیال نہیں کیا۔ملک کی موت خیال نہیں کیا۔بلکہ دنیا کی موت خیال کیا۔چنانچہ حسان بن ثابتؓ نے آپ کی وفات پر جو شعر کہے وہ یہ ہیں کہ ؎ کُنْتَ السَّوَادَ لِنَاظِرِیْ فَعَمِیَ عَلَیَّ النَّاظِرُ مَنْ شَاءَ بَعْدَکَ فَلْیَمُتْ فَعَلَیْکَ کُنْتُ أُحَاذِرُ (دیوان حسان بن ثابت صفحہ ۳۰۸) یعنی اے محمدؐ رسو ل اللہ!آپ تو میری آنکھوں کی پتلی تھے آپ کی وفات نہیں ہوئی بلکہ میری آنکھیں اندھی ہوگئی ہیں۔اب کوئی شخص مرتاپھرے مجھے اس سے کیا۔میں تو آپ ؐکے متعلق ہی ڈرتاتھا۔یہ وہ جذبہء عقیدت تھا جو آپ کے متعلق صحابہؓ میں پایا جاتاتھا۔حسان بن ثابت ؓ نے ایک شاعرانہ کلام ہی نہیں کہا بلکہ تاریخ شاہد ہے کہ تمام عرب نے حسان بن ثابتؓ کے ان شعروں کو اپنے ہی جذبات کا اظہار خیال کیا۔گویا عرب کی آواز حسان بن ثابتؓ کی زبان پر جاری ہوگئی۔تاریخ کہتی ہے کہ ہفتوں تک مدینہ، مکہ اور دوسرے مسلمان شہروں والے اپنے اپنے گھروں میں بیٹھے ہوئے بازاروں میں چلتے ہوئے اوراپنے کاروبار کرتے ہوئے یہی شعر پڑھتے تھے کہ