تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 359 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 359

ہے کہ انسان حیران ہوجاتا ہے کہ ایک چھوٹی سی بات کو اتنی اہمیت اورعظمت کیوں دے دی گئی تھی۔مثلاً رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوجہل قریباً ہم عمر تھے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش ایسی حالت میںہوئی کہ آپؐ کے والد آپ کی پیدائش سے پہلے ہی فوت ہوچکے تھے۔اگر وہ زندہ بھی ہوتے تو پھر بھی وہ کوئی مالدار آدمی نہیںتھے۔آپؐ کے دادا حضرت عبدالمطلب بھی امیر لوگوں میں سے نہ تھے اور گو آپ آسودہ حال ضرور تھے لیکن چونکہ آپ ایک سخی آدمی تھے۔اس لئے آخری عمر میں آپ کی دولت بہت کم ہوگئی تھی۔پس اول تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خاندان کوئی امیر خاندان نہیں تھا دوسرے آپ خصوصیت سے غریبانہ حالت میں پیدا ہوئے۔آپ ؐ کے والد آپؐ کی پید ائش سے پہلے ہی فوت ہوچکے تھے۔پس آپ کی پیدائش پر آپ کی والدہ نے کیا خوشی کی ہوگی۔آپ کی والدہ کے پاس کچھ تھا ہی نہیں۔لوگ تو دنیا کو دیکھتے ہیں۔مال اور دولت کو دیکھتے ہیں۔جہاں روپیہ ہوتا ہے وہاں جمع ہو جاتے ہیں مگر آپ کی والدہ کے پا س روپیہ نہیں تھا۔شاید آپ کے قریبی رشتہ دار مبارکباد دینے کے لئے آگئے ہوں۔مگر دوسرے لوگوں نے آپ کی پیدائش کوکوئی اہمیت نہیں دی۔لیکن ابو جہل کاباپ مالدا رتھا۔جب وہ پیداہواہوگا اس کے ماں باپ نے کتنی خوشیاں منائی ہوں گی۔ابوجہل کانام ابوالحکم تھا یعنی حکمتوں کاباپ۔عقلمند دانا اورمدبّر۔لیکن بعد میں اس نے جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شدید مخالفت کی اورحماقت کا اظہار کیا تو مسلمانوں نے اس کانام ابوجہل رکھ دیا۔ابوجہل کے ماں باپ چونکہ مالدارتھے۔اس لئے جب وہ پیداہواہوگا۔توہرشخص جس کی ضروریات ان سے وابستہ ہوں گی ان کے گھر پہنچا ہوگا اوراس کی پیدائش پر مبارکباد دی ہوگی اورکہا ہوگا ہماراملک کتنا ہی خوش قسمت ہے جس میں اس جیسابچہ پیداہوا۔اس کے چہر ہ سے ہی معلوم ہوتاہے کہ اس کے اقبال کا ستارہ کتنا بلند ہے۔غرض ا س کی تعریف میں لوگوں نے ہزاروں مبالغے کئے ہوں گے معلوم نہیں ا س کی پیدائش پر کتنے اونٹ ذبح کرکے دعوتیں کی گئی ہوں گی۔خوشی میں دفیں بجائی گئی ہوں گی۔عورتوں نے گیت گائے ہو ںگے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش پر آپ کے گھر کے پاس سے گذرنے والے یہ خیال کرتے ہوں گے کہ ایک غریب کے ہاں بچہ پیداہواہے جو خود بخود ختم ہوجائے گا۔لیکن ابو جہل کی پیدائش پر اس کے گھر کے پاس سے گذرنے والے یہ سمجھتے ہوں گے کہ آج ایک رئیس پیداہواہے۔نہ معلوم بڑا ہوکر یہ کیا کچھ کرے گا۔غرض رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ابتداء بظاہر ایک اد نیٰ رنگ میں ہوئی لیکن انتہاکیا ہوئی ؟ وہی بچہ جس کو دائیاں لینے کے لئے تیار نہیں تھیں۔جس کی پیدائش پر مکہ والوں نے کوئی نوٹس نہیں لیاتھا جب فوت ہواتوعرب کی تاریخ میں ہی نہیں ساری دنیا کی تاریخ میں ایک غیر معمولی حیثیت رکھتا تھا۔گویاآپ پر یہ الٰہی نوشتہ اپنی پوری شان کے ساتھ صادق آیا کہ