تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 356 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 356

اورنذیر بناکربھیجاہے۔اس میں عربی اورغیر عربی یامشرقی اورمغربی کا کو ئی امتیاز نہیں۔دنیا کے ہرشخص کا خواہ وہ کسی ملک کارہنے والاہو اورخواہ وہ کوئی زبان بولنے والا ہو۔فرض ہے کہ وہ تیرے پیغام کو قبول کرے اورتیری ہدایات کے تابع چلے۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایسے ملک میں پیداہوئے تھے جو تمام دنیا سے منقطع تھا۔وہ ملک تمدن کے لحاظ سے بھی کمزور تھا۔علمی لحاظ سے بھی کمزور تھااورسیاسی لحاظ سے بھی کمزور تھا۔اس کمزور ترین ملک میں محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک کمزورترین انسان تھے۔لیکن خدا تعالیٰ نے آپ سے کہا کہ ہم نے تجھے تمام دنیاکی طرف رسول بنا کر مبعوث کیا ہے۔اگرہم اس فقرہ کی صحیح ترجمانی کریں توا س کے معنے یہ ہوں گے کہ خدا تعالیٰ نے محمد رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے کہا۔اے میرے رسول! توکہہ دے کہ میں کینیڈا کی ہدایت کے لئے آیا ہوں جس کو تم جانتے بھی نہیں۔میں یونائیٹڈ اسٹیٹس امریکہ کی ہدایت کے لئے بھیجاگیاہوں جو ابھی آباد بھی نہیں ہوئیں۔مجھے خدا تعالیٰ نے برازیل، کیوبا، بولیویا، چلّی،کولمبیااورمیکسیکو کی ہدایت کے لئے مبعوث فرمایا ہے جنہیں ابھی کوئی جانتابھی نہیں اوربالکل ویران پڑے ہیں اور کسی آئندہ زمانہ میں آباد ہوںگے۔میں جاپا ن اورفلپائن کی اصلاح کے لئے بھیجا گیاہوں جن کو کوئی نہیںجانتا بلکہ میں ان ملکوںکی ہدایت کے لئے بھی مامو رکیاگیاہوں جوابھی دریافت بھی نہیں ہوئے۔غرض اس آیت کو پھیلاکر دیکھا جائے توانسان محو حیرت ہو جاتا ہے۔آخر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس دعویٰ کو پوراکرنے کے کون سے سامان تھے۔آپ کے پاس کون سے ہوائی جہاز تھے کہ جن کے ذریعہ آپؐ امریکہ جاتے۔کینیڈا جاتے۔برازیل، کولمبیا اوربولیویاجاتے۔پھر آپ کے پاس وہ کون سے ذرائع تھے کہ جن سے آپ اپنی تعلیم کو اپنی وفات کے بعد بھی ممتد کئے جاتے جب تک وہ ملک دریافت نہ ہوتے آپؐ وہاں جاہی کیسے سکتے تھے۔لوگ بات کرتے ہیں توان کے بیٹے بھول جاتے ہیں اوراگر بیٹے یاد رکھتے ہیں تو پوتے بھول جاتے ہیں۔اگر پوتے یاد رکھتے ہیں تو پڑپوتے بھول جاتے ہیں۔مگر یہ ملک تو اس وقت دریافت بھی نہیں ہوئے تھے۔آپؐ کی وفات کے نوسوسال بعد امریکہ دریافت ہوا۔لیکن فرض کرو۔اس وقت امریکہ دریافت بھی ہواہوتا توآپ ؐکے پاس کون سی گارنٹی تھی کہ آپ کا دعویٰ پوراہوجائے گا۔ہمیں تویہی نظر آتاہے کہ لوگ اپنے بچے قربان کرتے ہیں اپنے بھائی قربان کرتے ہیں اپنا عیش اورآرام قربان کرتے ہیں۔بعض ناجائز باتوں کے لئے قربانیاں کرتے ہیں۔بعض جائز اوراچھی باتوں کے لئے قربانیاں کرتے ہیں لیکن ان کے نتائج بہت محدود ہوتے ہیں اوران محدود نتائج کا بھی کوئی ذمہ وار نہیں ہوتا۔مگر محمد رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کاجس طرح دعویٰ تمام دنیاسے نرالاتھا۔اسی طرح آپ ؐ کا بدلہ بھی