تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 355 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 355

کہنا چاہیے تھا کہ یہ سب میرے اعداء ہیں مگراللہ تعالیٰ نے یہاں اَعْدَائَ کالفظ نہیں بلکہ عَدُوٌّ کالفظ رکھا ہے جومفرد ہے۔پس اس آیت پر نہ عربی زبان کے لحاظ سے کوئی اعتراض ہو سکتا ہے اورنہ محاورئہ قرآن کے لحاظ سے کوئی اعتراض ہو سکتا ہے۔اَنْ اَرْسِلْ مَعَنَا بَنِيْۤ اِسْرَآءِيْلَمیں اَنْ تفسیری بھی ہو سکتا ہے اور اَنْ مصدری بھی ہو سکتا ہے۔مصدری ہونے کی صورت میں اس کے یہ معنے ہوں گے کہ نَحْنُ مُرْسَلُوْنَ لِنُرْسِلَ مَعَنَا بَنِیْٓ اِسْرَآئِ یْلَ ہم خدا تعالیٰ کی طرف سے بنی اسرائیل کو اپنے ساتھ لے جانے کے لئے رسول بناکربھیجے گئے ہیں۔اس موقعہ پر قرآن کریم اوربائیبل کے ایک اختلاف کا ذکردینابھی ضروری معلوم ہوتاہے۔بائیبل میں لکھا ہے۔کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو کہا کہ ’’تُو اسرائیلی بزرگوں کو ساتھ لے کر مصر کے بادشاہ کے پاس جانا اوراس سے کہنا کہ خداوند عبرانیوں کے خدا کی ہم سے ملاقات ہوئی اب تُو ہم کو تین دن کی منزل تک بیابان میں جانے دے تاکہ ہم خداوند اپنے خداکے لئے قربانی کریں۔‘‘ (خروج باب ۳ آیت ۱۸) گویا نعوذ باللہ خدا تعالیٰ نے ایک رنگ میں حضرت موسیٰ ؑ اورہارون ؑ کو دھوکا کی تعلیم دی۔اورکہا کہ فرعون کو اگر صاف طور پر کہہ دیاگیا کہ ہم بنی اسرائیل کو اس ملک سے نکال کر لے جاناچاہتے ہیں تووہ اس کی اجازت نہیں دے گا۔اس دھوکا اورفریب سے اس سے اجازت حاصل کی جائے کہ ہم اپنے خداکے لئے قربانی کرناچاہتے ہیں اس لئے ہمیں مصر سے نکلنے کی اجازت دی جائے۔جب وہ اس کی اجازت دےدے تو اس بہانہ سے تمام بنی اسرائیل کو اپنے ساتھ لے کر مصر سے نکل آنا۔لیکن قرآن کریم کہتاہے کہ یہ بات غلط ہے۔ہم نے موسیٰ ؑ اورہاورن ؑ کو صاف طور پرکہہ دیاتھا کہ فرعون سے جاتے ہی یہ مطالبہ کرنا کہ اَرْسِلْ مَعَنَا بَنِيْۤ اِسْرَآءِيْلَ بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دیاجائے کیونکہ اب ان پرمظالم کی انتہاہوچکی ہے۔کسی دھوکا اورفریب کی ہم نے انہیں تعلیم نہیں دی تھی۔اَرْسِلْ مَعَنَا بَنِيْۤ اِسْرَآءِيْلَ کے الفاظ یہ بھی بتاتے ہیں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام ایک مختص القوم نبی تھے جو صرف بنی اسرائیل کو غلامی کی ان زنجیروں سے آزادکرانے کے لئے آئے تھے جن میں وہ سینکڑوں سال سے جکڑے چلے آتے تھے۔لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے یہ فضیلت عطافرمائی کہ آپ کسی ایک قوم کی طرف نہیں بلکہ تمام دنیا کی طرف رسول بناکر بھیجے گئے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے آپؐ کو مخاطب کرکے فرمایا کہ وَمَا اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا کَآفَّۃً لِّلنَّاسِ بَشِیْرًاوَّنَذِیْرًا(السبا: ۲۹) یعنی اے محمدؐ رسول اللہ ! ہم نے تجھے تمام بنی نوع انسان کے لئے بشیر