تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 32 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 32

وَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اٰلِهَةً لَّا يَخْلُقُوْنَ شَيْـًٔا وَّ هُمْ اور ان لوگوں نے اس (یعنی خدا) کے سوا معبود بنا چھوڑے ہیں جو کچھ (بھی) پیدا نہیں کرتے حالانکہ وہ يُخْلَقُوْنَ وَ لَا يَمْلِكُوْنَ لِاَنْفُسِهِمْ ضَرًّا وَّ لَا نَفْعًا وَّ لَا خود پیدا کئے جاتے ہیں اور جو اپنی ذات کے لئے نہ کسی ضر ر پر قادر ہیں نہ نفع پر نہ موت کے مالک ہیں يَمْلِكُوْنَ مَوْتًا وَّ لَا حَيٰوةً وَّ لَا نُشُوْرًا۰۰۴ اور نہ زندگی کے اور نہ پھر جی اُٹھنے کے۔حلّ لُغَات۔نُشُوْرًا :نُشُورًا نَشَرَ کا مصدر ہے اور نَشَرَ اللّٰہُ الْمَوْتٰی کے معنے ہیں اَحْیَاھُمْ۔اللہ تعالیٰ نے مردوں کو زندہ کیا۔پس نُشُوْرًا کے معنے ہوںگے موت کے بعد زندہ ہونا۔( اقرب) تفسیر۔فرماتا ہے کفار کی عقل تو ایسی ماری گئی ہے کہ انہوں نے خدا کے سوا اور معبود بنا لئے ہیں۔جو پیدا تو کچھ نہیں کرتے ہاں آپ پیدا کئے جاتے ہیں اور خود اپنی ذات کے لئے بھی ضر ر اور نفع کی کوئی طاقت نہیں رکھتے اور نہ موت اور زندگی اور دوبارہ جی اُٹھنا اُن کے ہاتھ میں ہے۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے معبود انِ باطلہ کی تردید میں بعض اور دلائل دئیے ہیں۔فرماتا ہے کہ انہیں پہلی بات تو یہ سمجھنی چاہیے کہ خدا تعالیٰ کے لئے خالق ہونا ضروری ہے۔مگر یہ لوگ جن کو معبود قرار دیتے ہیں اُ ن میں سے کسی کے متعلق بھی ثابت نہیں کر سکتے کہ وہ خالق تھا۔عیسائیوں نے حضرت مسیح ؑ کی طرف اس قسم کے معجزات تو منسوب کر دئیے ہیں کہ وہ مُردے زندہ کر دیا کرتے تھے لیکن انہیں خالق قرار دینے کی عیسائیوں کو بھی جرأت نہیں ہوئی البتہ مسلمانوں میں سے بعض نادانوں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ حضرت مسیح ؑ پرندے پیدا کیا کرتے تھے حالانکہ اگر وہ پرندے پیدا کیا کرتے تھے تو پھر وہ پرندے ہیں کہاں ؟ اور آیا اُن کی نسل بھی چلی تھی یا نہیں ؟ اور اگر چلی تھی تو یہ کیونکر پتہ لگ سکتا ہے کہ فلاں پرندے مسیح ؑ کے پیدا کردہ ہیں اور فلاں خدا کے۔بہر حال اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ سب ڈھکوسلے ہیں۔ان معبودانِ باطلہ میں سے کوئی بھی ایسا نہیں۔جس نے کوئی چیز پیدا کی ہو پس انہیں معبود قرار دینا اپنی حماقت اور نادانی کا ثبوت پیش کرنا ہے۔دوسری دلیل اللہ تعالیٰ نے یہ دی کہ وہ نہ صرف خالق نہیں بلکہ مخلوق ہیں۔یعنی وہ خود پیدا کئے گئے ہیں اور جن