تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 31 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 31

سکے۔کان دئیے تو ساتھ اس کے خوبصورت آوازیں بھی پیدا کیں۔زبان کے ساتھ ذائقہ دار چیزیں بھی عطا فرمائیں۔ناک پیدا کیا تو خوشبو بھی مہیا کر دی۔ممکن تھا کہ اتفاق انسان میں پھیپھڑا پیدا کر دیتا لیکن اس کے لئے ہوا کا سامان کیونکر پیدا ہو گیا۔اور ممکن تھا کہ انسان کی آنکھیں پیدا ہو جاتیں لیکن یہ عجیب اتفاق تھا کہ جس نے کروڑوں میلوں پر جا کر ایک سورج بھی پیدا کر دیا تاکہ وہ اپنا کام کر سکیں۔اگر ایک طرف اتفاق نے کان پیدا کر دئیے تھے تو کون سی طاقت تھی جس نے دوسری طرف آواز بھی پیدا کر دی۔برفانی ممالک میں مان لیا کہ کتے یا ریچھ کو اتفاق نے پیدا کر دیا لیکن اس کا کیا سبب ہے کہ اُن کتوں یا ریچھوں کے بال اتنے لمبے بن گئے کہ وہ سردی سے محفوظ رہ سکیں۔اتفاق ہی نے ہزاروں بیماریاں پیدا کیں۔اتفاق ہی نے اُن کے علاج بنا دئیے۔اتفاق ہی نے بچھو بوٹی بنائی جس کے چھونے سے خارش ہو نے لگ جاتی ہے اور اسی نے اس کے ساتھ پالک کا پودا اُگا دیا کہ اس کا علاج ہو جائے دہریوں کا اتفاق بھی عجیب ہے کہ جن چیزوںکے لئے موت تجویز کی اُن کے ساتھ تو الد تناسل کا سلسلہ بھی قائم کر دیا۔اور جن چیزوں کے ساتھ موت نہ تھی وہاں یہ سلسلہ ہی نہ رکھا۔انسان نے چونکہ مرنا تھا اس لئے اس کے ساتھ توالد اورتناسل کا سلسلہ لگا دیا۔لیکن سورج اور چاند اور زمین نہ نئے پیدا ہوتے اور نہ اگلے فنا ہوتے ہیں اس لئے اُن کے ساتھ یہ سلسلہ نہ رکھا۔پھر کیا یہ انتظام کچھ کم تعجب انگیز ہے کہ زمین اور سورج میں چونکہ کشش ہے اس لئے ان کو ایک دوسرے سے اتنی دور رکھا کہ آپس میں ٹکرا نہ جائیں۔کیا یہ باتیں اس بات پر دلالت نہیں کرتیں کہ ان سب چیزوں کا ایک خالق ہے جو نہ صرف علیم ہے بلکہ غیر محدود علم والا ہے اور اس کے قواعد ایسے منضبط ہیں کہ اُن میں کہیں بھی رخنہ نظر نہیں آتا۔سلطنتوں میں ہزاروں مدّبر اُن کی درستی کے لئے دن رات لگے رہتے ہیں لیکن پھر بھی ہم دیکھتے ہیں کہ اُن سے ایسی غلطیاں سرزد ہوتی ہیں کہ جن سے سلطنتوں کو خطرناک نقصان پہنچ جاتا ہے۔بلکہ بعض اوقات تو وہ بالکل تبا ہ ہو جاتی ہیں۔لیکن اگر اس دنیا کا کاروبار صرف اتفاق پر ہے تو تعجب ہے کہ ہزاروں دانا دماغ تو غلطی کرتے ہیں لیکن یہ اتفاق غلطی نہیں کرتا۔مگر سچی بات وہی ہے جو قرآن کریم نے بیان کی ہے کہ اس کائنات کا ایک خالق ہے جس نے یہ تمام نظام جاری کیا ہوا ہے۔چنانچہ جس طرف نظر دوڑا کر دیکھوتمہیں معلوم ہوگا کہ ہر ایک چیز اپنا مفوضہ کام کر رہی ہے اور یہی تقدیر ہے جو خدا تعالیٰ کی ہستی کا ایک زبر دست ثبوت ہے