تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 354
چلّاچلّاکر کہنا شروع کردیاکہ اے موسی! کیا تویہ چاہتاہے کہ جس طرح کل تونے ایک شخص کوماراتھا اسی طرح مجھے بھی مار دے۔اس کے اس شورسے ارد گردکے لوگوں کو معلوم ہوگیا کہ کل جو آدمی ماراگیاہے و ہ موسیٰ ؑ نے ہی ماراتھا۔اور چونکہ مقتول فرعونی قوم کاآدمی تھا۔اس لئے یہ خبر شہر میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی اور تمام قوم میں ایک جوش پیداہوگیا۔یہاں تک کہ یہ خبر ذمہ دار افسروں تک پہنچ گئی اورانہوں نے متفقہ طورپر فیصلہ کیاکہ موسیٰ ؑ کو قتل کردیا جائے۔اس پر انہی سرداران قوم میں سے ایک شخص جودرپردہ حضرت موسیٰ علیہ السلام سے مخلصانہ تعلقات رکھتاتھا دوڑاہواآیااوراس نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہا کہ سرداران قوم تیرے قتل کامشورہ کررہے ہیں اس لئے میر ی نصیحت یہ ہے کہ فوراً اس شہر سے نکل جائو۔چنانچہ حضرت موسیٰ علیہ السلام شہر سے نکلے اور کئی منزلیں طے کرنے کے بعد مدین میں جانکلے۔پس وَ لَهُمْ عَلَيَّ ذَنْۢبٌ میں حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اسی واقعہ کی طرف اشارہ فرمایا اوراس خدشہ کااظہار کیاکہ وہ لو گ اس واقعہ کی بناپر مجھے قتل نہ کردیں۔اس سے بھی حضرت موسیٰ علیہ السلام پر محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی فضیلت ظاہر ہے کیونکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے تواللہ تعالیٰ سے اپنی حفاظت کا وعدہ لیا۔لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بغیر کچھ بولے کھڑے ہوگئے اورآپؐ نے اللہ تعالیٰ کی راہ میں کسی قسم کی تکلیف کی پروا نہ کی۔بہرحال حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جب اس خدشہ کااظہار کیا تواللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ایساہرگز نہیں ہوسکتا۔تم دونوں ہمارے نشانات کے ساتھ فرعون کے پاس جائو اوریاد رکھو کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں اورہمیشہ تمہاری دعائوں کو سنتے رہیں گے۔جب بھی تمہیں کوئی مشکل پیش آئے تم میرے حضورجھکواوردعائیںکرو۔میں اسی وقت تمہاری مدد کے لئے دوڑاچلاآئوں گا تمہاراکام یہ ہے کہ تم فرعون کے پاس جائو اوراس سے کہوکہ ہم رب العالمین خداکے رسول ہیں۔اورہم اس لئے آئے ہیں کہ توبنی اسرائیل کو اپنی غلامی سے آزادکرکے ہمارے ساتھ روانہ کر دے۔اِنَّا رَسُوْلُ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ پر بعض لوگ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ یہاں موسیٰ ؑ اورہارون ؑ دوکا ذکر ہے مگرآگے یہ فرمایاگیاہے کہ ہم دونوں رب العالمین کی طرف سے رسول ہیں۔حالانکہ دوآدمیوں کے لئے رَسُوْلاَنِ کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے رسول کالفظ استعمال نہیں کیاجاتا۔ا س کا جواب یہ ہے کہ عرب لوگ کبھی کبھی یہ بھی کہہ دیتے ہیں کہ ھٰذَانِ رَسُوْلِیْ وَوَکِیْلِیْ وَھٰؤُلَائِ رَسُولِیْ وَوَکِیْلِیْ یعنی یہ دویاسب کے سب میرے رسول اوروکیل ہیں (فتح البیان زیر آیت فاتیا فرعون فقولا۔۔۔)اسی طرح قرآن کریم میں بھی دوسری جگہ یہ محاور ہ استعمال کیا گیاہے چنانچہ حضر ت ابراہیم علیہ السلام بتوں کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں فَاِنَّھُمْ عَدُوٌّ لِّیْٓ اِلَّا رَبَّ الْعٰلَمِیْنَ (الشعراء :۷۸)یعنی یہ سب کے سب رب العالمین کے سوامیرے دشمن ہیں حالانکہ عام عربی قواعد کے لحاظ سے یہ