تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 353
بلکہ اس لئے کیا کہ کہیں صداقت دنیاسے مٹ نہ جائے۔اورخدا تعالیٰ کاپیغام پہنچانے سے پہلے ہی وہ اس کے ظلم و استبداد کا شکار نہ ہوجائیں۔وَ لَهُمْ عَلَيَّ ذَنْۢبٌ کے الفاظ بتارہے ہیں کہ حضر ت موسیٰ علیہ السلام سے جویہ فعل سرزد ہواتھا محض ایک اتفاقی حادثہ تھا۔جو خدا تعالیٰ کی نگاہ میں آپ کومجرم بنانے والانہیں تھا۔کیونکہ ذَنْبٌ ہر ایسے فعل کو کہتے ہیں جس کانتیجہ خراب نکلے خواہ شرعی نقطہ نگاہ سے وہ انسان کو مجرم بنانے والانہ ہو (مفردا ت) مگراس سے بھی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مقام کا فرق ظاہرہو جاتا ہے۔حضرت موسیٰ علیہ السلام پر ان کی بعثت سے پہلے ایک الزام لگایاگیاخواہ وہ جھوٹاہی تھا۔لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کی بعثت سے پہلے بھی تمام لوگ امین اورصدوق کہتے اورآپ کی نیکی اورانصاف اوردیانتداری کے قائل تھے۔بہرحال یہ حادثہ چونکہ ایسا تھا جس میں فرعونی قوم کا ایک آدمی حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ہاتھ سے ماراگیاتھااورفرعون کے وزراء نے آپ کو قتلِ عمد کا مرتکب قرار دے کرچاہاتھاکہ آپ کو قتل کردیاجائے جس کے نتیجہ میں آ پ کومصر سے بھا گ کر مدین میں پناہ گزین رہنا پڑا اس لئے آپ نے اس فعل کو ذنب قرار دیا۔اوراس خدشہ کااظہار فرمایاکہ ایسانہ ہو کہ وہ میرے اس فعل کی بناپر مجھے جاتے ہی گرفتارکرلیں اورمجھے قتل کردیں۔یہ واقعہ قرآن کریم میں اس طرح بیان کیاگیاہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام ایک دفعہ رات کے وقت شہر میں پھر رہے تھے کہ انہوںنے دوآدمیوںکو آپس میں لڑتے اور دست وگریبان ہوتے دیکھا۔ان میں سے ایک ان کی قوم کا فرد تھا اورایک ان کی دشمن یعنی فرعونی قوم کافردتھا۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کو دیکھ کر ان کی قوم کے آدمی نے انہیں آواز دی اوراپنی مدد کے لئے بلایا۔حضرت موسیٰ علیہ السلام آگے بڑھے اورانہوںنے مخالف شخص کو ایک مکّامارا۔مکّایاتواسے زیادہ زور سے ماراگیایااس شخص کا دل اورجگرکمزورتھااورمکا اس کے دل اورجگرپر لگا۔بہرحال اس کانتیجہ یہ ہواکہ وہ گرگیا اوراس کی جان نکل گئی دوسرے دن و ہ صبح کے وقت پھر شہر کی گشت کے لئے نکلے۔تواچانک کیادیکھتے ہیں کہ وہی شخص جو کل ان سے مدد مانگ رہاتھا آج پھر کسی اورسے لڑ رہاہے اورموسیٰ ؑ کو اپنی مددکے لئے بلارہاہے۔حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جب دیکھا کہ کل بھی یہی شخص لڑرہاتھا اورآج بھی یہی لڑرہاہے توسمجھا کہ یہ کوئی جوشیلا آد می معلوم ہوتاہے ورنہ وجہ کیاہے کہ ہرشخص اسی کو مارنے کے لئے اٹھ کھڑاہو۔چنانچہ آپ نے اسے کہا کہ دوسرے شخص کاقصورتوہوگا۔مگرتم بھی بہت جوشیلے معلوم ہوتے ہو۔اس کے بعد انہوں نے چاہاکہ آگے بڑھ کر دوسرے شخص کامقابلہ کریں۔مگراس نے سمجھا کہ چونکہ ابھی انہوں نے مجھے ڈانٹاہے اس لئے شاید یہ مجھے ہی مارنے کے لئے آگے بڑھے ہیں۔چنانچہ اس نے بے سوچے سمجھے