تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 30
سے کھانا پکایا جاتا ہے لیکن اگر یہ ہوتا کہ کبھی سارا دن پھلکا تو ے پر پڑا رہتا اور آگ جلتی رہتی لیکن وہ گیلے کا گیلا ہی رہتا۔اور کبھی آٹا ڈالتے ہی جل جاتا اور کبھی سینک لگنے سے پھلکا پکنے لگتا اور کبھی موٹا ہو کر ڈبل روٹی بن جاتا تو کون پھلکے پکانے کی جرأت کرتا۔اسی طرح کبھی ساگ کچا رہتا اور کبھی پک جاتا تو کون پکاتا۔یا اب تو ہر شخص جانتا ہے کہ کھانڈ ڈالنے سے چیز میٹھی ہو جاتی ہے لیکن اگر ایسا ہوتا کہ کبھی کھانڈ ڈالنے سے چیز میٹھی ہو جاتی اور کبھی کڑوی ہو جاتی کبھی نمکین ہو جاتی اور کبھی کھٹی یا کسیلی ہو جاتی اور کبھی کسی اور مزے کی ہو جاتی تو کیا کوئی کھانڈ استعمال کر سکتا۔غرض جس قدر کا رخانہ ٔ عالم چل رہا ہے اس کی ایک ہی وجہ ہے اور وہ مسئلہ تقدیر ہے۔خدا تعالیٰ نے قانون مقرر کر دیا ہے کہ میٹھا میٹھے کا مزا دے۔تُرش تُرش کا مزا دے۔آگ سے کھانا پکے ،روٹی سے پیٹ بھرے اور لوگوں نے تجربہ کر لیا ہے کہ یہ درست ہے۔اس لئے وہ ان باتوںکے لئے روپیہ صرف کرتے اور محنت برداشت کرتے ہیں۔اگر خواص الاشیاء پر انسان کا یقین نہ ہوتو وہ سب کو ششیں چھوڑ دے اور تمام کارخانہ ٔ عالم باطل ہو جائے۔پھر یہی تقدیر ہستی باری تعالیٰ کا بھی ایک زبردست ثبوت ہے کیونکہ کوئی صنعت صانع کے بغیر نہیں بن سکتی ایک عمدہ تصویر کودیکھ کر فوراً خیال ہوتا ہے کہ یہ کسی بڑے مصّور نے بنائی ہے۔ایک عمدہ تحریر کو دیکھ کر فوراً سمجھا جاتا ہے کہ کسی مشہور کاتب نے لکھی ہے اور جس قدر ربط بڑھتا چلا جائے اسی قدر اس کے بنانے یا لکھنے والے کی خوبی اور بڑائی ذہن نشین ہوتی جاتی ہے پھر کیونکر تصّور کیا جاسکتا ہے کہ ایسی منظم دنیا خود بخود اور یونہی پیدا ہو گئی ہے۔چنانچہ دیکھ لو جہاں انسان میں ترقی کرنے کے قویٰ موجود ہیں وہاں اُسے اپنے خیالات کو عملی صورت میں لانےکے لئے عقل دی گئی ہے اور اس کا جسم بھی اُس کے مطابق بنایا گیا ہے۔چونکہ اُس نے محنت سے رزق کمانا تھا اس لئے اللہ تعالیٰ نے اُسے ایسے قویٰ دئیے کہ جن سے چل پھر کر وہ اپنا رزق پیدا کر لے۔درخت کا رزق اگر زمین میں رکھا تو اُسے جڑیں دیں کہ وہ اس کے اندر سے اپنا پیٹ بھرے۔اگر شیر کی خوراک گوشت رکھی تو اُسے شکار مارنےکے لئے ناخن دئیے اور اگر گھوڑے اور بیل کے لئے گھاس کھانا مقدر کیا تو اُن کو ایسی گردن دی جو جھک کر گھاس پکڑ سکے۔اور اگر اونٹ کے لئے درختوں کے پتے اور کانٹے مقرر کئے تو اس کی گردن بھی اونچی بنائی کیا یہ سب کارخانہ اتفاق سے ہوا ہے ؟ کیا اتفاق نے اس بات کو معلوم کر لیا تھا کہ اونٹ کو گردن لمبی دوں؟ اور شیر کو پنجے اور درخت کو جڑیں اور انسان کو ٹانگیں دوں ؟ کیا یہ سمجھ میں آسکتا ہے کہ جو کام خود بخود ہو گیا اس میں اس قدر انتظام رکھا گیا ہو ؟ پھر اگر انسان کے لئے پھیپھڑا بنایا تو اس کے لئے ہوا بھی پیدا کی۔اگر پانی پر اس کی زندگی کا مدار رکھا تو سورج کے ذریعے بادلوں کی معرفت اُسے پانی پہنچایا اور اگر آنکھیں دیں تو ان کے کار آمد بنانےکے لئے سورج کی روشنی بھی رکھی تاکہ وہ اس کے ذریعہ دیکھ