تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 328
خدابنادیاہے۔وہ یہ خیال کرتے تھے کہ جس طرح عورتیں چٹنی بناتی ہیں۔توکچھ نمک لیتی ہیں۔کچھ مرچیں لیتی ہیں۔کچھ پودینہ لیتی ہیں اوران سب کوپیس کر چٹنی بنا لیتی ہیں۔اسی طرح محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لات، مناۃ،عزّیٰ وغیرہ کو کوٹ پیس کر ایک خدابنادیاہے۔قرآن کریم میں لکھا ہے کہ وہ تعجب سے یہ کہاکرتے تھے کہ اَجَعَلَ الْاٰلِھَۃَ اِلٰھًا وَّاحِدًا(ص : ۶)یعنی ہمارے بہت سے جوخداتھے ان کوتوڑ مروڑ کر اس نے ایک خدابنادیاہے۔یہ خیال کہ یہ خداہیںہی نہیں ان کے ذہن میں آہی نہیں سکتاتھا۔جب ان کے سامنے کوئی شخص کہتاکہ ایک خداہے تو وہ سمجھتے تھے کہ ایک خداکے معنے یہ ہیں کہ اس نے سارے خدائوں کو کوٹ کرایک چٹنی سی بنادی ہے اورجب وہ اس بات کو پیش کرتے توسارے لوگ ہنس پڑتے اورمحمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پاگل سمجھتے۔لیکن اب اگر یہی بات کسی مسلمان کے سامنے بیان کروتووہ بھی ہنس پڑے گا کیونکہ اب اسے ایک خدا پر یقین پیداہوچکا ہے۔اوراس کایہ خیال پختہ ہوگیاہے۔تو جس جس زمانہ میں بھی اللہ تعالیٰ کے انبیاء کی طرف سے کوئی بات پیش کی جاتی ہے چونکہ لوگ اس کے عادی نہیں ہوتے اس لئے وہ اس کی مخالفت کے لئے کھڑے ہوجاتے ہیں۔حضرت آدم علیہ السلام آئے توآپ کے خلاف دھوکا اورفریب سے کام لیاگیا۔اورآخر آپ کوانہوں نے اس مقام سے نکلنے پرمجبور کردیا جوان کا مولد و مسکن تھااورجس میں و ہ خدا تعالیٰ کی طرف سے لوگوں کی ہدایت کے لئے مبعوث کئے گئے تھے۔حضرت نوح علیہ السلام آئے توانہیں بھی مختلف رنگ میں اذیتیں پہنچائی گئیں۔اورانہیں بھی اپنے ملک سے ہجرت کرنی پڑی۔حضرت ابراہیم علیہ السلام آئے۔توآپ کوآگ میں ڈالا گیا۔حضرت موسیٰ علیہ السلام آئے توآپ کو اورآپ کے ساتھیوں کوایک لمبے عرصہ تک فرعون کے مظالم کاتختہ ء مشق بننا پڑا۔اورجیساکہ حدیثوں سے معلوم ہوتاہے۔بنی اسرائیل میں سے بعض کے سروں پر آرے رکھ کر ان کوچیر دیاگیا۔حضرت مسیح علیہ السلام آئے تو دشمنوں نے آپ کوصلیب پر لٹکا دیااورآپ کے خلفاء اور حواریوں میں سے بھی بعض کوقتل کیااوربعض کو صلیب پر لٹکایا۔پھررسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ آیاتو آپ کو بھی شدید سے شدید مشکلا ت کاسامنا کرناپڑا۔کئی صحابہؓ قتل کئے گئے۔بعض کامثلہ کیاگیا بعض کو اس طرح شہید کیا گیاکہ دواونٹو ںسے ان کی دوٹانگیں باندھ کر ان اونٹوں کو مختلف جہات میں دوڑایا گیا۔اوراس طرح ان کو چیر کر دوٹکڑے کردیاگیا۔بعض صحابہؓ کوتپتی ریت پر لٹایا گیا۔بعض کو سخت پتھروں والی زمین پر گھسیٹاگیا۔بعض کے سینوں پر جوتیوں سمیت ناچاگیا۔عورتوں کی شرمگاہوں میں نیزے ما رمار کر ان کوماراگیا۔(بخاری کتاب التفسیر باب قولہ تعالیٰ اطلع الغیب، اسد الغابۃ :حمزۃ وخباب بن الارت ، اسد الغابۃ تحت بلال بن رباح وعمار بن یاسر و خباب بن الارت ،السیرۃ النبویۃ لابن ہشام ذکر عدوان