تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 29
میں اس قانون کو پیش کرتا ہے جو ساری دنیا میں جاری ہے اور فرماتا ہے۔وَ خَلَقَ كُلَّ شَيْءٍ فَقَدَّرَهٗ تَقْدِيْرًا اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کو پیدا کیا ہے اور پھر اس کے لئے ایک اندازہ مقرر کر دیا ہے جس کے ماتحت وہ ترقی کرتی جاتی ہے۔چنانچہ دیکھ لواگر ہر چیز کا اللہ تعالیٰ پہلے سے ایک اندازہ مقرر نہ کرتا تو انسان کو نہ دنیا میں کوئی ترقی حاصل ہو سکتی اور نہ دینی معاملات میں وہ سکھ پا سکتا۔ایک زمیندار جو گھر سے دانہ لے جا کر زمین میں ڈالتا ہے صرف اس لئے ڈالتا ہے کہ خدا نے یہ قانون مقرر کر دیا ہے کہ جب دانہ زمین میں ڈالا جائے تو اُس کے اُگنے سے کئی دانے پیدا ہو جائیں۔لیکن اگر یہ قاعدہ مقرر نہ ہوتا بلکہ اس طرح ہوتا کہ زمیندار کو گندم کی ضرورت ہوتی اور وہ گندم بوتا تو کبھی تو گندم نکل آتی کبھی کیکر اُگ آتا اور کبھی انگور کی بیل نکل آتی۔تو کچھ مدت کے بعد زمیندار اس بونے کے فعل کو لغو سمجھ کر بالکل چھوڑ دیتا اور اپنی محنت کو ضائع خیال کرتا۔اسی طرح اب تو سنار کو یقین ہے کہ سونا جب آگ میں ڈالوں گا تو پگھل جائےگا اور پھر جس طرح چاہوںگا زیور بنا لوں گا۔لیکن اگر ایسا نہ ہوتا بلکہ یہ ہوتا کہ سنار کو کوئی شخص کڑے بنانےکے لئے سونا دیتا اور جب وہ اسے پگھلاتا تو چاندی نکل آتی یا کوئی چاندی دیتا تو وہ پیتل نکل آتی کیونکہ کوئی قاعدہ مقرر نہ ہوتا تو کیا حالت ہوتی ؟ یہی کہ وہ اس کام سے آئندہ کے لئے توبہ کر لیتا۔اسی طرح اگر لوہار لوہے کو گرم کر کے اس پر ہتھوڑا مارتا کہ اسے لمبا کرے تو وہ کبھی تو خود بن جاتا کبھی ہاون کی شکل اختیار کر لیتا۔یا وہ کدال بناتا تو تلوار بن جاتی اور اُسے پولیس پکڑ لیتی کہ ہتھیار بنا نے کی اجازت تم کو کس نے دی ہے۔یا اسی طرح ڈاکٹر بخار اتارنے کی دوائی دیتا اور اُس سے کھانسی ہو جاتی تو ڈاکٹروں کی کون سنتا۔اب تو کسی کو کھانسی ہو تو ایک زمیندار بھی کہتا ہے کہ اسے بنفشہ پلائو کیونکہ تجربہ نے بتا دیا ہے کہ اس سے کھانسی کو فائدہ ہوتا ہے لیکن اگر کوئی قانون مقرر نہ ہوتا بلکہ یہ ہوتا کہ کبھی بنفشہ پلانے سے کھانسی ہو جاتی اور کبھی بخار چڑھ جاتا۔کبھی قبض ہو جاتی اور کبھی دست آجاتے۔کبھی بھوک بند ہو جاتی اور کبھی زیادہ ہو جاتی تو کون بنفشہ پلاتا۔بنفشہ تب ہی پلایا جاتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے یہ قانون مقرر کر دیا ہے کہ اس سے فلاں قسم کی کھانسی کو فائدہ ہوگا۔اسی طرح زمیندار تب ہی غلّہ گھر سے لا کر زمین میں ڈالتا ہے کہ اُسے یقین ہوتا ہے کہ گیہوں سے گیہوں پیدا ہوگا۔اگراسے یہ یقین نہ ہوتا تو کبھی نہ ڈالتا۔وہ کہتا نہ معلوم کیا پیدا ہو جائےگا میںکیوں اس غلہ کو ضائع کروں لیکن اب وہ اسی لئے مٹی کے نیچے بیسیوں من گندم کے دانوں کو دبا دیتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے یہ تقدیر مقرر کی ہوئی ہے کہ گندم سے گندم پیدا ہو اور ایک دانے سے سو دانے تک پیدا ہوں۔بلکہ اس سے بھی زیادہ۔اسی طرح روٹی کھانے سے پیٹ بھرتا ہے لیکن اگر ایسا ہوتا کہ کبھی ایک لقمہ سے پیٹ بھرجاتا اور کبھی انسان سارا دن روٹی کھاتا رہتا تب بھی پیٹ نہ بھرتا تو پھر کس کو ضرورت تھی کہ کھانا کھاتا اور کیوں روپیہ ضائع کرتا یا گھر میں آگ جلانے