تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 325 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 325

کفار کی گردنیں جھک جاتیں اوروہ ایمان لانے پر مجبور ہوجاتے۔مگر اللہ تعالیٰ ایسانہیں کرتا۔وہ نشانات تونازل کرتاہے مگران میں ایک قسم کااخفاء بھی رکھتاہے تاکہ جو لوگ ایمان لائیں وہ اپنی اپنی کوشش اورجدوجہد کے مطابق اللہ تعالیٰ سے اجر پائیں۔افسوس ہے کہ مسلمانوں میں نشانات الٰہیہ کے متعلق ایسی غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں کہ ایک دفعہ قادیان میں غیر احمدی مولویوں نے جلسہ کیا۔اس جلسہ میں ایک غیر احمدی مولوی صاحب نے بڑ ے جوش کے ساتھ تقریر کی اورکہا۔مرزا صاحب نبی بنے پھر تے ہیں۔مرزا صاحب کے معجزے بھی کوئی معجزے ہیں۔معجزہ تویہ ہوتاہے کہ سید عبدالقاد رصاحب جیلانی ؒکے پاس کو ئی شخص مرغ پکا کر لایا۔آپ نے کھاکر اس سے کہا۔تم نے مجھ پراحسان کیاہے مگر ہم تمہیں بھی احسان کا بدلہ دینا چاہتے ہیں اوریہ کہہ کر انہوں نے مرغ کی ہڈیاں لیں اورہاتھ میں پکڑ کرانہیں زور سے دبایا تووہی مرغ کُڑکُڑکُڑکُڑ کرکے اپنی اصلی حالت پر آگیا۔اس قسم کے قصے مسلمانوں میں اس لئے آئے کہ انہوںنے معجزات کے بارہ میں اللہ تعالیٰ کی سنت کو نظر انداز کردیا۔اوریہ نہ سمجھا کہ اگر ایسے معجزات ظاہر ہو ں توپھر کو ن شخص ہے جوکسی نبی کاانکار کرسکتاہے اوراگرایسے معجزات کے ظہو ر کے بعد کوئی شخص ایمان لاتاہے توکون کہہ سکتاہے کہ اس نے ایمان لاکرکوئی قربانی کی ہے اوروہ کسی انعام کامستحق ہے۔پس اس آیت میں یہ بتایاگیاہے کہ اللہ تعالیٰ کبھی ایسے نشانات نازل نہیں کرتا جوایسے کھلے اورواضح ہوں کہ انہیں دیکھ کرکفار کی بھی گردنیں جھک جائیں اوروہ ایمان لے آئیں۔کیونکہ اگر ایساہوتو یہ ایک قسم کا جبر ہوگیا اوراللہ تعالیٰ قبول ہدایت کے بارہ میں کسی قسم کا جبر روانہیں رکھتا۔پھرفرماتا ہے۔وَ مَا يَاْتِيْهِمْ مِّنْ ذِكْرٍ مِّنَ الرَّحْمٰنِ مُحْدَثٍ اِلَّا كَانُوْا عَنْهُ مُعْرِضِيْنَ جب بھی رحمٰن خدا کی طرف سے کوئی نیا پیغام آیاہے لوگوں نے ہمیشہ اس کاانکارکیاہے۔پھر یہ لوگ کس طرح اس پیغام کو قبول کرسکتے ہیں۔اس جگہ خدائی پیغام کو ان معنوں میں نیا نہیں کہا گیاکہ ہرنبی کو ئی نئی شریعت لاتاہے بلکہ ان معنوں میں اسے نیاقرار دیاگیاہے کہ وہ پیغام دنیا کی نگاہوں سے مخفی ہوتاہے۔دنیا اس کو بھول چکی ہوتی ہے اوروہ اس سے ایسی غافل اوربیگانہ ہوتی ہے کہ باوجود اس کے کہ وہ اس کی اپنی کھوئی ہوئی چیز ہوتی ہے پھر بھی وہ اسے ایک نئی چیز سمجھنے لگتی ہے اوراس سے ڈر کر دو ربھاگنے لگتی ہے۔انہی معنوں میںاللہ تعالیٰ نے ایک دوسرے مقام پر پہلی کتب الہامیہ کو بھی حدیث قرار دیاہے اورقرآن کریم کی فضیلت ان الفاظ میں بیان فرمائی ہے کہ اَللّٰہُ نَزَّلَ اَحْسَنَ الْحَدِیْثِ (الزمر : ۲۴) یعنی اللہ تعالیٰ نے بڑی شان اورطاقت اورقوت کے ساتھ اس کتاب کو اتار اہے جو احسن الحدیث ہے یعنی ساری الہامی کتابوں سے افضل ہے۔پس ہرنبی جو دنیا میں ظاہر ہوا۔وہ دنیا کے لئے ایک نیا پیغام لایا بعض انبیاء توان