تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 301
میں سے ایک نام امن دینے والابھی ہے۔چنانچہ سورئہ حشر میں اللہ تعالیٰ کے جونام گنائے گئے ہیں ان میںسے ایک نام یہ بھی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اَلْمَلِکُ الْقُدُّوْسُ السَّلَامُ( الحشر :۲۴) اے محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم ) تُولوگوں کوتوجہ دلااس خدا کی طرف جو بادشاہ ہے پاک ہے اوراَلسَّلَام یعنی دنیا کوامن دینے والا اور تمام سلامتیوں کا سرچشمہ ہے۔یعنی جس طرح ماں باپ یہ کبھی برداشت نہیں کرسکتے کہ ان کے بچے لڑیں جھگڑیں یافساد کریں۔بلکہ وہ امن شکن کو سزادیتے اورامن قائم رکھنے والے بچے سے پیارکرتے ہیں اسی طرح تمہارے اوپر بھی ایک خداہے وہ دیکھ رہاہے کہ تمہارے مفاد مختلف ہیں۔تمہارے ارادے مختلف ہیں۔تمہاری ضرورتیں مختلف ہیں۔تمہاری خواہشیں مختلف ہیں۔اور تم بعض دفعہ جذبات میں بے قابو ہوکر امن شکن حالات پرتیار ہوجاتے ہو۔مگریاد رکھو خدایسی باتوںکو پسند نہیں کرتا۔وہ سلام ہے۔جب تک کوئی سلامتی اختیار نہ کرے اس وقت تک و ہ اس کامحبوب نہیں ہوسکتا۔ہرشخص سمجھ سکتاہے کہ خالی امن کی خواہش امن پیدا نہیں کردیاکرتی۔کیونکہ بالعموم امن کی خواہش اپنے لئے ہوتی ہے دوسروں کے لئے نہیں ہوتی۔چنانچہ جب لوگ کہتے ہیں۔دولت بڑی اچھی چیز ہے توا س کے یہ معنے نہیں ہوتے کہ دشمن کی دولت بھی اچھی چیز ہے بلکہ مطلب یہ ہوتاہے کہ میرے لئے اور میرے دوستوں کے لئے دولت بڑی اچھی چیز ہے اور جب وہ کہتے ہیں صحت بڑی اچھی چیز ہے تو اس کے معنی بھی یہ نہیں ہوتے کہ میرے دشمن کی صحت اچھی چیزہے بلکہ مطلب یہ ہوتا ہے کہ میرے لئےصحت بڑی اچھی چیز ہے ورنہ دشمن کے متعلق توانسان یہی چاہتاہے کہ وہ نادار اورکمزور ہو۔اسی طرح جب لو گ عزت و رتبہ کے متمنی ہوتے ہیں توہرشخص کے لئے نہیں بلکہ محض اپنے لئے۔پس جب دنیاکایہ حال ہے توخالی امن کی خواہش بھی فساد کاموجب ہوسکتی ہے کیونکہ جولوگ بھی امن کے متمنی ہیں وہ ا س رنگ میں امن کے متمنی ہیں کہ صرف انہیں اوران کی قوم کو امن حاصل رہے۔ورنہ دشمن کے لئے وہ یہی چاہتے ہیں کہ اس کے امن کو مٹادیں۔اب اگر اسی اصل کو رائج کردیاجائے تودنیا میں جوبھی امن قائم ہوگا وہ چند لوگوںکا امن ہوگا۔ساری دنیاکانہیں ہوگا۔اورجو ساری دنیا کاامن نہ ہو وہ حقیقی امن نہیں کہلاسکتا۔حقیقی امن تبھی پیداہو سکتا ہے جب انسان کو یہ معلوم ہوکہ میرے اوپر ایک بالا ہستی ہے جومیرے لئے ہی امن نہیں چاہتی بلکہ سارے ملکو ں کے لئے امن چاہتی ہے اوراگر میں صرف اپنے لئے یاصرف اپنی قوم کے لئے یاصرف اپنے ملک کے لئے امن کامتمنی ہوں تواس صورت میں مجھے اس کی مدد اس کی نصرت اوراس کی خوشنودی کبھی حاصل نہیں ہوسکتی۔جب یہ عقیدہ دنیا میں رائج ہوجائے تبھی امن قائم ہو سکتا ہے ورنہ نہیں۔پس اَلْمَلِکُ الْقُدُّوْسُ السَّلَامُ