تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 297 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 297

کہہ دینا کہ فلاںکو ہدایت نصیب نہیں ہوسکتی بہت بڑی غلطی ہے۔اللہ تعالیٰ جب ہدایت دیناچاہتاہے توآناًفاناً دے دیتاہے۔یہی مضمون اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں بیان فرمایا ہے کہ مَاخَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ (الذاریات: ۵۷)اللہ تعالیٰ نے ہرایک کو ہدایت اوراپنے قرب کے لئے پیدا کیا ہے۔پس بڑاہی مایوس وہ انسان ہے جواللہ تعالیٰ کی اس رحمت کی ناقدری کرے اورسمجھے کہ انسان تو پیدائشی طورپر گنہگار پیدا کیا گیاہے ا س لئے و ہ پاکیزگی اورتقدس اختیار ہی نہیں کرسکتا۔اسلام بتاتاہے کہ یہ نظریہ قطعی طورپرغلط ہے انسان فطرتی طورپر پاکیزہ قویٰ لے کر آیا ہے۔اوراللہ تعالیٰ نے ہرایک کو اپنے قرب کے لئے پیدا کیا ہے اسی طرح وہ ایک دوسرے مقام پر فرماتا ہے۔وَ نَفْسٍ وَّ مَا سَوّٰىهَا۔فَاَلْهَمَهَا فُجُوْرَهَا وَ تَقْوٰىهَا۔قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَكّٰىهَا۔وَ قَدْ خَابَ مَنْ دَسّٰىهَا۔(الشمس:۸تا ۱۱)یعنی ہم انسانی نفس کو اس امر پر شہادت کے طورپر پیش کرتے ہیں کہ اسے ہم نے سب عیوب سے منزّہ پیدا کیاہے اوراس کی فطرت میں نیکی اوربدی کی شناخت کی قوت رکھی ہے۔چنانچہ جوشخص اپنی روح کو بیرونی ملونیوں سے پاک رکھتا ہے وہ کامیاب ہو جاتا ہے اورجو شخص اس جبلّی پاکیزگی کو خراب کردیتاہے وہ ناکام ہو جاتا ہے۔غرض اسلام انسان کواس مایوسی کاشکار نہیں ہونے دیتا جس کاشکار اسے دوسرے مذاہب بناتے ہیں بلکہ وہ اس کی روح میں بلند پروازی کی طاقت پیداکرتااوراسے فرش سے اٹھا کر عرش تک لے جاتاہے۔پھر قرآن کریم اس لحاظ سے بھی کتاب مبین ہے کہ اس نے ہزاروں ایسی صداقتیں بیان فرمائی ہیں جن کا پہلی الہامی کتب میں کہیں ذکر تک نہیں۔مثلاً قرآن کریم جو موسیٰ ؑ اورفرعون کے قریباً بائیس سوسال کے بعد نازل ہواہے اس میں یہ لکھا ہے کہ فرعونیوں کے سمندر میں غرق ہونے کے وقت فرعون توبے شک ڈوب گیا تھا۔مگراس کی لاش محفوظ کرلی گئی تھی۔تاکہ وہ آئندہ آنے والے لوگوں کے لئے عبرت اورنصیحت کا باعث بنے (یونس آیت ۹۳) چنانچہ اب جوپرانی ممیاں نکلی ہیں توان میں فرعونِ موسیٰ ؑ کی ممی بھی نکلی ہے۔جومصر کے عجائب خانہ میں محفوظ ہے جسے میں نے بھی اپنی آنکھوںسے دیکھا ہے۔اب دیکھویہ قرآن کریم کے کتاب مبین ہونے پر کتنی زبردست شہادت ہے کہ بائیبل جو اس زمانہ کی کتاب ہے جس زمانہ میں فرعون ڈوباتھا۔اس میں توکہیں یہ ذکرنہیں کہ فرعون کی لاش محفوظ کرلی گئی تھی۔مگر قرآن کریم نے بائیس سوسال بعد نازل ہوکر اس سچائی کو بیان کردیا اورپھر اس سچائی کے بیان کرنے کے چودہ سوسال بعد زمین میں سے فرعون موسیٰ ؑ کی ممی نکل آئی۔اوراس طرح ثابت ہوگیاکہ قرآن حقیقتاً ا س خدائے بلندو برتر کاکلام ہے جوتمام اسرار کوجاننے والااور تمام غیبوں سے آگاہ ہے۔