تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 293 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 293

آنے پر اس کامقابلہ کرے وہ تو کہے گاکہ میں گناہ کاکیا مقابلہ کروں۔میں تواس سے بچ ہی نہیںسکتا اورجب وہ گناہ کا مقابلہ کرنے سے گریز کرے گا تولازماً گناہ میں مبتلاہوجائے گا۔مگرقرآن کریم نے بتایاکہ انسان کو فطرت صحیحہ عطا کی گئی ہے۔اورخواہ وہ کیسی ہی حالت میں ہو اگر وہ کوشش کرے تو وہ ترقی کر کے اللہ تعالی کاقرب حاصل کرسکتاہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مَاخَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ (الذاریات : ۵۷)یعنی میں نے جنوں اورانسانوں کو صرف اپنی عبادت کے لئے پیدا کیاہے۔اس جگہ اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایاکہ میں نے آد م ؑ کو اس لئے پیدا کیا تھا کہ وہ میری عبادت کرے بلکہ فرماتا ہے مَاخَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ چاہے فرمانبرداری کی طبیعت رکھنے والے انسان ہوںچاہے ناری فطرت رکھنے والے وجود ہوں دونوں کو میں نے عبادت اوراپنے قرب کے لئے پیدا کیاہے۔انس ان لوگوںکو کہتے ہیں جواپنے اندر فرمانبرداری اوراطاعت کاماد ہ رکھتے ہیں۔اورجنّ ان لو گوں کو کہتے ہیں جن پر پر دہ پڑاہو اہوتاہے۔یعنی جن کی فطرت صحیحہ پر پردہ پڑ جاتاہے۔اوروہ اللہ تعالیٰ سے دور ہوجاتے ہیں۔قرآن کریم سے ہمیں یہ بھی معلوم ہوتاہے کہ جنّی طبیعت والے نار سے پیداکئے گئے ہیں۔گویاناری طبیعت والا انسان جو گناہ کی طرف مائل ہوتاہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اسے بھی میں نے عبادت کے لئے پیدا کیاہے کیونکہ اس کی ناری طبیعت طبیعتِ ثانیہ ہوتی ہے طبیعت اولیٰ نہیں ہوتی۔درحقیقت طبیعتیں دو قسم کی ہوتی ہیں ایک طبیعت اولیٰ جو فطرت میں رکھ دی گئی ہے اورایک طبیعت ِ ثانیہ جو ماحول کے اثرات کے ماتحت پیداہوتی ہے اورطبیعت اولیٰ پر غالب آجاتی ہے۔اسی لئے اس قسم کی طبیعت رکھنے والے کو جنّ کہتے ہیں۔جس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ اس کی اصل فطرت پر پردہ پڑاہواہے اورجب ہم اسے جنّ کہتے ہیں توہمارے مدنظر یہ مفہوم ہوتاہے کہ اس کی فطرت اولیٰ نظر نہیں آتی۔اور چونکہ اس کی فطرت اولیٰ نظر نہیں آتی اس لئے وہ جنّ کہلاتاہے۔پس فرماتا ہے۔وہ لوگ جو خدا تعالیٰ سے محجو ب ہوتے ہیں اورجنّات میں شامل ہوتے ہیں اوروہ لو گ جو اپنی طبیعت میں نیکی رکھتے ہیں دونوںکو ہم نے اپنی عبادت کے لئے پیدا کیاہے۔جب لوگ ایک لمبے عرصہ تک نیکی کو قائم رکھتے اوراللہ تعالیٰ کے منشاء کے ماتحت اپنی زندگیاں بسر کرتے ہیں تووہ انس کہلاتے ہیں اورجب وہ نبی کی تعلیم سے غافل ہوجاتے ہیں تووہ جنّ ہوجاتے ہیں کیونکہ ان کی فطرت صحیحہ ایسی مخفی ہوجاتی ہے کہ وہ بھول جاتے ہیں اس بات کو کہ ہماری جماعت کاقیام کیوں ہواتھا۔اورہمارے نظام کی غرض کیاتھی یا نبی نے ہمیں کیا تعلیم دی تھی۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ خواہ وہ جنّات ہوں یاانسان یعنی خواہ ایسے لوگ ہوں جن کے دلوں میں محبت الٰہی کی چنگاری سُلگ رہی ہواورخواہ ایسے لوگ ہوں جن کی فطرت صحیحہ پر پردہ پڑاہواہوفطرت ثانیہ غالب آچکی ہو اورسمجھاجاتاہوکہ ان کی طبیعت ثانیہ ہی