تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 291
حفاظت جسم سے بھی زیادہ ضروری ہے کیونکہ جسم فانی ہے اورروح غیر فانی۔چنانچہ ایک مسلمان جب اس آیت کو پڑھتاہے تواس کے دل میں تصدیق کی خواہش پیداہوتی ہے۔وہ ہندوئوں کے پاس جاتا ہے اورڈرتے ڈرتے ان سے پوچھتا ہے کہ آپ کی قوم میں بھی کو ئی نبی آیا تھا۔وہ کہتے ہیں ہاں حضر ت کرشن اور حضرت رامچند رجی اللہ تعالیٰ کا کلام لے کر آئے تھے وہ اپنے وقت کے اوتار تھے۔یہ سن کر اس کا چہرہ بشاشت سے کھل جاتاہے اوروہ کہتا ہے الحمدللہ! یہ بات سچی ثابت ہوگئی کہ ہرقوم میں نبی آئے ہیں۔پھر وہ چین میں جاتا ہے۔اوروہاں کے لوگوں سے پوچھتاہے کہ آپ کی قوم میں بھی کو ئی نبی آیاہے تووہ کنفیوشس کا نام لیتے ہیں۔اس پر اس کادل اَور بھی زیادہ مسرور ہوجا تاہے کہ الحمد للہ! چین میں بھی اللہ تعالیٰ کانبی آیا ہے۔پھر وہ ایران میں جاتاہے اوروہاں کے لوگوں سے پوچھتا ہے کہ آپ کے پاس بھی کوئی نبی آیا ہے تووہ حضرت زرتشت کانام لیتے ہیں۔یہ سن کر وہ خوشی سے اپنے جامہ میں پھولانہیں سماتا۔اورکہتاہے کہ اب تو یہ با ت اوربھی پختہ ہوگئی۔پھر وہ یونان میں جاتاہے اوروہاں کے لوگوں سے دریافت کرتاہے کہ تمہارے پاس بھی کو ئی اللہ کا پیغام لے کر آیا ہے۔تووہ کہتے ہیں۔ہاں ہمارے ملک میں سقراط اس بات کا دعویدار تھا کہ اللہ تعالیٰ اس سے ہمکلام ہوتاہے۔اس پر وہ اورزیادہ مسرو ر ہوتاہے اورکہتاہے الحمدللہ میراقرآن یہاں بھی سچاثابت ہوا۔غرض و ہ جس ملک میں بھی جاتاہے اس کی گردن فخر سے اونچی ہوجاتی ہے۔اور اس کادل اس لذت اورسرورسے بھرجاتاہے کہ میری کتاب میں جوکچھ کہاگیاتھا وہ حرف بحر ف درست ثابت ہوا۔لیکن ایک عیسائی ایک ہندواورایک یہودی جس ملک میں بھی جاتاہے۔ا س کامنہ غم سے کالاہو جاتا ہے۔وہ مڈل ایسٹ میں جاتاہے اورسنتا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے بڑے نبی ہیں تواس کا د ل جل جاتاہے۔برمامیں جاتا ہے اورسنتا ہے کہ بدھا نبی ہے تووہ رونے لگ جاتاہے۔ہندوستان میں سنتا ہے کہ کرشن نبی ہے تواس پر جنون سوارہو جاتا ہے۔یونان میں جاتاہے اوراسے پتہ لگتاہے کہ اس ملک میں سقراط گذراہے تووہ چیخیں مارنے لگ جاتاہے۔غرض وہ جس ملک میں بھی جاتاہے اس پر مصیبت آجاتی ہے۔مگرایک مسلمان جس ملک میں بھی جاتاہے اسے خوشی پر خوشی نصیب ہوتی ہے اورہرملک میں یہ تعلیم اس کی سربلندی اورسُرخروئی کاموجب ہوتی ہے۔غرض یہ ایک چھوٹی سی آیت ہے۔لیکن اس چھوٹی سی آیت کو ہی لے کر ساری دنیا میں پھر جائو۔کسی بزرگ کی بڑائی سن کر تمہارے دل میں انقباض پیدا نہیں ہوگا اور تمہیں تسلیم کرنا پڑے گا کہ قرآن کریم نے یہ تعلیم پیش کرکے باقی تمام الہامی کتب پر اپنی فضیلت کو ثابت کردیاہے۔پھر خود انسانی وجود جو اللہ تعالیٰ کی وحی کا مہبط اوراس کے انوار وبرکات کامورد تھا اس کے متعلق بھی بعض مذاہب نے یہ غلط نظریہ پیش کیا کہ وہ طبعاً میلان گناہ رکھتاہے۔اوراس کی وجہ