تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 286 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 286

کتب کی کوتاہیوں کو دلائل کے ذریعہ اعتراضات سے پاک کرتاہے۔مثلاً انسانی فطرت کے ارتقاء کی طرف اشارہ کرکے یالوگوں کی دست اندازی کی طر ف اشارہ کرکے یالوگوںکے استنباط کو غلط بتاکر۔غرض وہ پہلے نبیوں پہلی کتب اورپہلی اقوام کی خوبیوں کو بھی واضح کرتاہے اوران پر عائد ہونے والے اعتراضات کو بھی ردّ کرتاہے اس طرح و ہ گویامستبین کے مقام سے نکل کر مبین کے مقام تک پہنچ جا تاہے۔اس کی مثال کے طور پر دیکھ لو بنی اسرائیل جب مصر سے نکل کرکنعان کی طرف آئے توبائیبل بتاتی ہے کہ بنی اسرائیل کے بیس سال سے زائد عمرکے لڑنے کے قابل مردوں کی تعداد بارھویں قبیلہ کو چھو ڑکر جن کی گنتی نہیں کی گئی چھ لاکھ تین ہزار پانچ سو پچا س تھی (گنتی باب ۲ آیت ۳۲ تا ۴۶)۔اگر بارھویں قبیلہ کا بھی اندازہ کرلیا جائے توہم کہہ سکتے ہیں کہ فوجی خدمات سرانجا م دینے کے قابل مرد ساڑھے چھ لاکھ تھے۔اگرعورتوں بچوں اور بوڑھو ںکی تعداد معلوم کرنے کے لئے ہم اس تعداد کو دس گناکرلیں کیونکہ عام طورپر چھ سے دس فیصدی تک ملک کی آبادی جنگی خدمت کے قابل سمجھی جاتی ہے تویہ تعداد ساٹھ لاکھ تک پہنچ جاتی ہے۔مگرعقل اس امر کو تسلیم نہیں کرسکتی کہ بنی اسرائیل ساٹھ لاکھ ہوں۔کیونکہ اول تواتنے آدمی مصر سے اتنے قلیل عرصہ میں نکل ہی نہیں سکتے تھے جتنے قلیل عر صہ میں وہ نکلے دوسرے یردنؔپارکی بستی جس میں وہ آکر بسے ہیں اس قدر آبادی کی متحمل ہی نہیں ہوسکتی تھی۔اب بھی فلسطین کی آبادی پندرہ لاکھ ہے۔حالانکہ اب یہودیوں نے امریکہ کی مدد سے اسے آباد کیاہے۔پس اس ملک میں جو پہلے سے آباد تھا۔ساٹھ لاکھ آدمیوں کاآکر بس جانا بالکل خلاف عقل بات ہے۔پس بائیبل بنی اسرائیل کی جو تعداد بتاتی ہے۔وہ عقلی لحاظ سے کسی صورت میں بھی قابل قبول نہیں سمجھی جاسکتی مگر قرآن کریم نے آکر بتایاکہ یہ با ت غلط ہے۔وہ لو گ صرف چند ہزار تھے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ خَرَجُوْا مِنْ دِیَارِھِمْ وَھُمْ اُلُوْفٌ حَذَ رَ الْمَوْتِ۔(البقرۃ:۲۴۴)یعنی کیا تجھے ان لوگوں کاحال معلوم نہیں جواپنے گھروں سے موت کے ڈ رسے نکلے جبکہ وہ چند ہزار تھے۔پس بائیبل نے تویہ بتایا کہ بنی اسرائیل لاکھوں کی تعداد میں مصر سے نکلے تھے۔لیکن قرآن کریم نے اس غلطی کی اصلاح کی اوربتایاکہ وہ لاکھوں نہیں بلکہ ہزاروں تھے۔اسی طرح حضرت سلیمانؑ خدا تعالیٰ کے ایک مقدس نبی تھے مگر بائیبل نے ان پر شرک کا الزام لگادیااورکہا کہ ’’جب سلیمان بُڈھا ہوگیا تواس کی بیویوں نے اس کے دل کو غیر معبودوں کی طرف مائل کرلیا اوراس کا دل خداوند اپنے خداکے ساتھ کامل نہ رہا۔‘‘ ( ۱۔سلاطین باب ۱۱آیت ۴) پھر لکھا ہے۔