تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 282
خداتعالی بڑی بزرگی اورشان رکھنے والا ہے۔قرآن کریم نے ایک دوسرے مقام پراللہ تعالیٰ کی اس صفت کی طرف ان الفاظ میں بھی اشار ہ فرمایا ہے کہ کُلَّ یَوْمٍ ھُوَفِیْ شَاْنٍ(الرحمن :۳۰)یعنی تمہاراخداوہ ہے جو ہروقت ایک نئی شان میں جلوہ گرہوتاہے اورہمیشہ اپنے ایسے نشانات ظاہرکرتا ہے جن سے ا س کی اعلیٰ و ارفع شان دنیا پر ظاہر ہوتی ہے حقیقت یہ ہے کہ دیکھی ہوئی چیز کو دوبارہ دیکھنا انسان کو کوئی خاص لطف نہیں دیتا۔انسانی فطرت میں اللہ تعالیٰ نے جدت کامادہ رکھا ہواہے اوروہ چاہتا ہے کہ نئے نئے جلوے اس کے سامنے ظاہر ہوں۔جب ریل گاڑی جاری ہو ئی توشروع شروع میں لوگ اسے عجوبہ سمجھتے ہوئے اس پر پھولوں کے ہار ڈالتے تھے لیکن آہستہ آہستہ ان کا جوش ختم ہو گیا۔پھر ہوائی جہاز اوردوسری سواریاں نکلیں۔توان کی طرف متوجہ ہوگئے۔غرض فطرت انسانی کو ہمیشہ نئی چیزوں سے لطف آتاہے اوروہ نئی نئی چیزوں سے تسلی پاتی ہے۔کیونکہ جب وہ کوئی نئی چیز دیکھتا ہے تو ایک نئی امید اس کے اندر پیداہوجاتی ہے۔اوروہ سمجھتا ہے کہ شاید کوئی نیا جلو ہ مجھے نظر آنے لگا ہے۔اسی فطرت کے تقاضہ کو پوراکرنے کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے موسم بدلتے ہیں اورنئے نئے پھل پیدا ہوتے ہیں۔اورانسان بھی کبھی اپنے لباس میں تغیر کرتاہے کبھی مکا ن میں اور کبھی نئے نئے کھانے تیار کرتاہے کیونکہ نئی چیز سے انسانی فطرت تسکین پاتی اورایک لطیف حظ محسوس کرتی ہے۔اسی فطری تقاضا کے مطابق مجھے قرآن پڑھ کر بھی بڑامزہ آتا ہے۔لیکن جب کبھی رات کو خدا تعالیٰ میرے کان میں کوئی بات کہتاہے توکچھ نہ پوچھو کہ اس کا کیا مزہ ہوتا ہے۔کیونکہ وہ ایک نئی چیز ہوتی ہے جو دل کو لذت او رسرور سے بھر دیتی ہے۔غرض اسلام بتا تا ہے کہ تمہاراخدامجید ہے اوروہ ہمیشہ اپنی ایسی قدرتیں ظاہر کرتا ہے جن سے اس کی اعلیٰ شان اورمجد کااظہار ہوتاہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہی دیکھ لو کسریٰ نے یہودیوں کی انگیخت پر گورنریمن کو آرڈ ربھجوایا۔کہ عرب میں جو ایک نیا مدعی نبوت پیداہواہے اسے گرفتار کرکے میرے پاس بھجوادیاجائے۔گورنر یمن نے آپ ؐکی گرفتاری کے لئے اپنے سپاہی بھجوادیئے اورانہیں کہا کہ میری طرف سے انہیں پیغام دےدیا جائے کہ مجھے تومعلوم نہیں کہ آپ کاکیا قصور ہے لیکن بہتر یہی ہے کہ آپ آجائیں۔ورنہ ممکن ہے کسریٰ کی فوجیں عرب پر دھاوابول دیں اورساراملک ایک مصیبت میں گرفتارہوجائے۔جب وہ پیغامبر آپؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے اورانہوں نے آپ کواپنے ساتھ چلنے کے لئے کہا توآپؐ نے فرمایا ٹھہرومیں تمہیں پھر جواب دوں گا۔چنانچہ وہ دودن ٹھہرے اورپھر حاضر ہوئے۔آپؐ نے فرمایاایک دن اورٹھہر جائو۔تیسرے دن جب وہ آپ سے ملے تو آپؐ نے فرمایا۔جائو اپنے گورنرسے کہہ دوکہ آج رات میرے خدا نے تمہارے خداوند کو مار ڈالا ہے۔وہ سخت حیران ہوئے کہ آپؐ نے یہ کیا بات کہی ہے اورانہوں نے پھر آ پ سے ساتھ چلنے کی درخواست کی۔مگر آپ نے