تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 278
میرا گزارا ہے۔ایک دن مجھے بکریاں چراتے چراتے دیر ہوگئی اورمیں جلدی گھر نہ پہنچ سکا۔میرے ماں باپ بہت بوڑھے تھے او ربچے چھوٹے چھوٹے۔جب میں گھر پہنچا تو میرے ماں باپ سوچکے تھے او ربیوی بچے جاگ رہے تھے اور بھو ک کی وجہ سے میراانتظار کررہے تھے۔جب میں پہنچا تو انہوں نے کہالائوہمیں دودھ پلائو۔تاکہ ہم دودھ پی کر سوجائیں۔مگر میں نے کہا جب تک میرے ماں باپ دودھ نہ پی لیں۔کسی اورکودودھ نہیں دے سکتا۔چنانچہ میں نے دودھ کا پیالہ بھر ااو راپنے والدین کی پائنیتی کے پاس کھڑاہوگیا۔میری بیوی زاری کرتی رہی اور میرے بچے چیختے رہے۔مگر میں نے ان کی چیخ و پکا رکی کوئی پروا نہ کی۔اور دودھ کا پیالہ اپنے ہاتھ میں لئے برابر کھڑا رہا۔یہاں تک کہ صبح ہوگئی اس وقت میرے والدین اٹھے تومیں نے انہیں دودھ پلا یا اور پھر اپنی بیوی اور بچوں کودودھ پلایا۔اے خدا! اگر میرایہ کام محض تیری رضا اورخوشنودی کے لئے تھا اور دنیا کی کوئی غرض اس میں نہ تھی توتومجھ پر رحم فرمااوراس پتھر کو راستہ سے ہٹادے۔تب پھر زورکاطوفان اٹھااورپتھر لڑھک کر نیچے گر گیا۔اوروہ تینوں شخص غار سے باہر نکل آئے۔(ریاض الصالحین باب الاخلاص والنیۃ و بخاری کتاب الاجارۃ باب من استأجراجیرا افترک أجرہ ) غر ض دعاایک بہت بڑا ہتھیا رہے جوہرمصیبت میں انسان کے کام آتا اور اسے ہرقسم کی مشکلا ت سے رہائی عطاکرتا ہے۔اتنے بڑے ہتھیار کے ہوتے ہوئے بڑاہی نادان وہ شخص ہے جو مصیبت کے آنے پر کسی اورکی طرف بھاگے اور اس سے مدد مانگے۔سچا مومن وہی ہے جو اپنی ہرضرورت خدا تعالیٰ سے مانگے۔یہاں تک کہ اسے اگر اپنی جوتی کے لئے تسمہ کی بھی ضرورت ہو تو وہ بھی اللہ تعالیٰ ہی سے مانگے۔اوراس امر پر کامل یقین رکھے کہ اللہ تعالیٰ اس کی ہرضرورت کو پوراکرنے پر قادر ہے اوروہ اسے اپنے دروازے سے کبھی خائب و خاسر واپس نہیں لوٹائے گا۔جب مومن کے اند ریہ کیفیت پیداہوجائے تووہ سب دنیا کو بھول جاتا اور صرف اللہ تعالی کو ہی اپنا حقیقی کار ساز سمجھتاہے۔میں نے پہلے بھی کئی دفعہ بیان کیا ہے کہ ہماری جماعت کے ایک دوست مولوی امام الدین صاحب جو گولیکی ضلع گجرات کے رہنے والے اورقاضی اکمل صاحب کے والد تھے اوراب فوت ہوچکے ہیں وہ صوفی منش آدمی تھے۔اورمجھے ہمیشہ کہا کرتے تھے کہ وہ روحانی مقام احمدیت میں ہمیںنصیب نہیں ہوسکاجس کے متعلق ہم بہت کچھ سنا کرتے تھے میں نے ایک دفعہ ان سے پوچھا کہ وہ کیا مقام تھا جس کا آپ ذکر سنا کرتے تھے۔کہنے لگے ہمارے پیر صاحب کہا کرتے تھے کہ جو شخص ہماری صحبت میں چند دن رہے اسے ہم عرش پر سجد ہ کراسکتے ہیں اور وہ خدا تعالیٰ کو اپنی آنکھوں سے دیکھ سکتا ہے۔میں احمدیت کو اپنی پہلی حالت سے بالا تو تسلیم کرتا ہوں مگر وہ نظارہ مجھے احمدیت