تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 277 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 277

کوئی صورت دکھائی نہ دی۔تو ایک شخص کو دعاکی تحریک ہوئی اوراس نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ آئو ہم نے اپنی عمر میں جو سب سے زیادہ نیکی کاکام کیا ہے اس کاواسطہ دے کر خدا تعالیٰ سے کہیں کہ وہ اس پتھر کو ہٹا دے۔تب ان میں سے ایک نے کہا کہ اے خدا!تجھے معلوم ہے کہ ایک مزدورمیرے پاس آیااس نے میری مزدوری کی اورپھر پیشتر اس کے کہ وہ مجھ سے اجر ت لیتا چلا گیا۔میں نے اس کی اجرت کے پیسوں سے تجارت شروع کی اوراس میں سے نفع اٹھاتے ہوئے ایک بکر ی خریدی اس بکری سے اور بکریاں پیداہوئیں یہاںتک کہ سینکڑوں بکریوں اور بھیڑوں کا گلہ میرے پاس ہوگیا۔وہ کئی سال کے بعد میرے پاس آیااورکہنے لگا میری اٹھنی رہتی ہے وہ مجھے دی جائے۔میں اسے اپنے ساتھ لے گیا۔اورسینکڑوں بکریوںاوربھیڑوں کا گلّہ اسے دکھا کرکہا یہ تیری امانت ہے اسے لے جا۔وہ کہنے لگا۔مجھ سے کیوں مذاق کرتے ہو۔میری صرف اٹھنی رہتی تھی وہ مجھے دےدو۔میں نے اسے کہا۔اس اٹھنی سے ہی میں نے تجارت شروع کی تھی اوراب اس قدر بھیڑیں اوربکریاں ہوگئی ہیں۔وہ کہنے لگا۔پھر تو یہ میری نہ ہوئیں۔تمہاری ہوئیں۔میں نے اسے کہا۔نہیں میں نے اپنے لئے نہیں بلکہ تمہارے لئے تجارت کی تھی۔تب وہ نہایت ہی حیران ہو ا۔مگر میرے مجبور کرنے پر وہ بھیڑوں اوربکریوں کے گلّوں کو ہانک کر اپنے گھر لے گیا۔اے خدا!اگر میں نے یہ کام تیری رضااور خوشنودی کے لئے کیاتھا توتُو مجھ پر رحم فرما اوریہ پتھر راستہ سے ہٹا دے۔اس دعا کے نتیجہ میں زورسے آندھی کا ایک طوفان اٹھا اورو ہ پتھر ذراسالڑھک گیا۔مگر ابھی ان کے نکلنے کا راستہ نہ بنا۔تب دوسرے نے کہا۔اے خدا توجانتا ہے کہ مجھے ایک لڑکی سے جو میری رشتہ دار تھی بڑی محبت تھی مگر وہ کسی طرح میرے قابو نہیں آتی تھی۔ایک دفعہ ملک میں شدید قحط پڑا۔اوروہ او راس کے رشتہ داربھوکے مرنے لگے۔آخر مجبور ہوکر وہ لڑکی میرے پاس مدد کے لئے آئی۔میں نے اسے کہا کہ میں تمہاری مدد کے لئے تو تیارہوں مگر پہلے تم میرے ساتھ ہمبستری کر و۔وہ مجبوراً اس کام کے لئے رضامند ہوگئی۔جب میں اس کے قریب گیا۔تو اس لڑکی نے کہا۔میں تمہیں خدا کاواسطہ دے کر کہتی ہوں کہ تو مجھے گناہ میں مبتلا مت کر۔یہ سنتے ہی میں الگ ہوگیا۔اورمیں نے کہا۔اب تو نے ایک بڑی ذات کا مجھے واسطہ دیا ہے میں اسی کی رضا کے لئے اس کام کو ترک کرتاہوں۔چنانچہ وہ لڑکی اُٹھی اور اپنے گھر چلی گئی اور میں نے روپیہ بھی اسے دے دیا۔اے خدا!اگر میں نے یہ کام محض تیری رضااور خو شنودی کے لئے کیا تھا تو تُو اس پتھر کو ہما رے راستہ سے ہٹا دے۔تب پھر زور سے ایک طوفان اٹھا اورپتھر تھوڑاسا اورسرک گیا۔مگر راستہ پھر بھی نہ بنا کیونکہ چٹان بہت بڑی تھی اور ابھی وہ اتنی نہیں لڑھکی تھی کہ ان کے نکلنے کا راستہ بن جاتا۔تب تیسرا شخص خدا تعالیٰ کے حضورجھکا اوراس نے کہا اے خداتجھے معلوم ہے کہ میں بکریاںچرایا کرتاہوں اور دودھ پر