تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 273
ابھی پہنا ہی رہاتھا۔کہ کھٹ کی آواز آئی۔اس نے اوپر دیکھا۔توجج کا ہارٹ فیل ہوچکا تھا۔اس کے مرنے کے بعد دوسرے جج کو مقرر کیاگیا۔اوراس نے پہلے فیصلہ کو بدل کر ہماری جماعت کے حق میں فیصلہ کردیا۔جودوستوں کے لئے ایک بہت بڑانشان ثابت ہوا۔اوران کے ایمان آسمان تک جاپہنچے(اصحاب احمد جلد ۴ صفحہ ۲۳ تا ۲۵)۔غرض اللہ تعالیٰ کی یہ سنت ہے کہ وہ اپنے انبیاء کے ذریعہ متواترغیب کی خبریں دیتا ہے۔جن کے پوراہونے پر مومنوں کے ایمان اَور بھی ترقی کرجاتے ہیں۔یہ غیب کی خبروں کا ہی نتیجہ تھا کہ جو لوگ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے ان کے دل اس قدر مضبوط ہوگئے کہ اورلو گ توموت کو دیکھ کر روتے ہیں۔مگر صحابہؓ میں سے کسی کو جب خدا تعالیٰ کی راہ میں جان دینے کاموقعہ ملتا تووہ خوشی سے اچھل پڑتا۔اورکہتا فُزْتُ وَربِّ الْکَعْبَۃِ۔ربِ کعبہ کی قسم! میں کامیاب ہو گیا۔آخریہ روح ان کے اند رکہا ں سے آگئی تھی۔یہ وہی روح تھی جو اللہ تعالیٰ نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو غیب کی خبریں بتابتا کر مومنوں کے اند ر بھر دی تھی۔اگر ان پر انکشافِ غیب نہ ہوتاتووہ ا س اعلیٰ مقام پر کبھی کھڑ ے نہ ہوسکتے جس پر مسلمان پہنچے۔پس یہ دونوں چیزیں اپنی اپنی جگہ بنی نوع انسان کے لئے منفعت بخش ہیں۔غیب بھی اپنی جگہ فائدہ مندہے اورانکشافِ غیب بھی اپنی جگہ نفع رساں ہے۔ساری لذتیں غیب کے ساتھ ہیں اورساری روحانیت کشفِ غیب کے ساتھ وابستہ ہے۔خدا تعالیٰ کی دوسری صفت جس کی طرف ان مقطّعات میں توجہ دلائی گئی ہے وہ ا س کی صفت سمیع ہے۔اَلسَّمِیْعُ کے معنے ہیں کہ وہ لوگوں کی دعائیں سنتا اورانہیں نرالے طور پر قبول کرتاہے اوریہ کہ اس کے سوانہ زندہ آدمی دوسروں کی دعائیں سن سکتے ہیںاور نہ مردہ۔صرف خداہی ہے جو لوگوں کی دعائیں سنتا اوران کو قبول فرماتا ہے۔چنانچہ دیکھ لو۔کوئی یورپ میں دعامانگ رہاہوتاہے۔کوئی ایشیا میں دعا مانگ رہاہوتاہے۔کوئی چین میں مانگ رہاہوتاہے۔کوئی جاپان میں مانگ رہاہوتاہے۔کوئی روس میں مانگ رہاہوتا ہے۔کوئی مصر ،شام اورفلسطین میں مانگ رہاہوتاہے۔مگر خداان سب کی دعائیں سن رہاہوتا ہے۔پس اس صفت کے ذریعے بنی نوع انسان کو اس امر کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ تمہاراخداوہ ہے جو تمہاری دعائوں کو سننے والااور تمہار ی تمام ضروریات اورحاجات میں کام آنے والا ہے تمہیں جب بھی کوئی مشکل پیش آئے۔تمہارافرض ہے کہ تم خدا تعالیٰ کے حضور جھکو۔اوراس سے دعاکرو۔اس کے لئے کسی مال کی ضرور ت نہیں۔کسی ہنر کی ضرورت نہیں۔کسی طاقت اورقوت کی ضرورت نہیں۔اگر کسی کے دونوں ہاتھ شل ہوچکے ہوں یاکوئی شخص اتنا نحیف اورکمزور ہوچکا ہوکہ وہ چارپائی سے اٹھ کر نماز کی حرکات بھی ادانہ کرسکے۔تب بھی و ہ دعاکرسکتا ہے۔کیونکہ دعاان چیز وںکی محتا ج نہیں۔وہ بیشک لیٹا رہے اوراللہ تعالیٰ سے