تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 272
اورچار لڑکیاں پیداہوئیں۔لڑکے توسب کے سب بچپن میں ہی وفات پاگئے۔مگرحضرت زینبؓ حضرت رقیّہؓ،حضرت ام کلثومؓ اور حضرت فاطمہؓ چاروں لڑکیاں زندہ رہیں۔اوراسلام میں داخل ہوئیں (اسد الغابۃ کتاب النساء حرف الخاء خدیجۃؓ)۔حضرت امام حسنؓ اور امام حسین ؓ حضرت فاطمۃ الزہراؓ کے بطن سے ہی پیداہوئے تھے جوحضرت خدیجہؓ کی صاحبزادی تھیں۔اورانہی کی اولاد آج سادات کہلاتی ہے۔غرض اللہ تعالیٰ نے انہیں اوران کی تمام نسل کو اپنے غیر معمولی انعامات سے نوازا۔لیکن اگر حضرت خدیجہؓ کویہ معلوم ہوتا کہ انہیں ایک دن یہ اعزاز حاصل ہونے والا ہے کہ تمام عالمِ اسلام انہیں اُم المومنین کہے گا اورقیامت تک ان کی نسل کو معز ز اورمکرم قرار دیاجائے گا اوروہ اللہ تعالیٰ کے لئے نہیں بلکہ محض اس عزت اورمقام کے حصول کے لئے ایمان لاتیں توان کاایمان لاناان کے کس کام آتا۔اسی طرح ابوجہل جو سمجھتا تھا کہ میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اورآپ کے ساتھیوںکو مارڈالوں گا اوراسلام کو مٹادوں گا۔اگر اس کو یہ علم ہوتا کہ اس کی مخالفانہ کوششوں کے باوجود اسلام دنیا میں پھیل جائے گا اوردنیا میں اس کانام لعنت کے ساتھ لیا جائے گا بلکہ خود اس کابیٹا اسلام میں داخل ہوجائے گا اوروہ اسلام کے لئے دشمنوں سے لڑتا ہواماراجائے گا تووہ کبھی اسلام کے خلاف اپنی آواز بلند نہ کرتا۔غرض اگرپردئہ غیب حائل نہ ہوتا تونہ ابوبکر ؓ ابو بکر ؓ ہوسکتا۔نہ ابو جہل ابو جہل بن سکتا۔لیکن جہاںد ینی اوردنیوی کاروبار پردئہ غیب کی وجہ سے چل رہاہے وہاں مومنوںکے ایمان کی ترقی انکشافِ غیب سے تعلق رکھتی ہے۔جب انبیا ء دنیا میں آتے اورلوگوں کو غیب کی خبریں سناتے ہیں اورپھر مخالف حالات میں ان کی بتائی ہوئی خبریں پوری ہوجاتی ہیں تودلوں میںایک نیا ایمان پیدا ہو جاتا ہے اورخدا تعالیٰ کی ہستی اس طرح عریاں ہوکر لوگوں کے سامنے آجاتی ہے کہ اس کے وجود کاکوئی دیانتدار انسان انکار نہیں کرسکتا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں ایک دفعہ کپور تھلہ کے احمدیوں اورغیر احمدیوں کا وہاں کی ایک مسجد کے متعلق مقدمہ ہوگیا۔جس جج کے پاس یہ مقدمہ تھا اس نے مخالفانہ رویہ اختیارکرنا شروع کردیا۔اس پر کپور تھلہ کی جماعت نے گھبراکر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کودعا کے لئے خط لکھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کے جواب میں انہیں تحریرفرمایا کہ اگر میں سچا ہوں تومسجد تم کو مل جائے گی۔مگر دوسری طرف جج نے اپنی مخالفت بدستور جاری رکھی اورآخر اس نے احمدیوں کے خلاف فیصلہ لکھ دیا۔مگر دوسرے دن جب وہ فیصلہ سنانے کے لئے عدالت میں جانے کی تیاری کرنے لگا توا س نےنوکر سے کہا۔مجھے بوٹ پہنادو۔نوکر نے ایک بوٹ پہنایا اور دوسرا