تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 269 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 269

ہوکر تقریر کرنا چاہی۔مگر ابو لہب نے ا ن سب لو گوںکو منتشر کردیا اوروہ آپ ؐکی بات سنے بغیر اپنے اپنے گھروں کو چلے گئے۔آپؐ بہت حیران ہوئے کہ یہ اچھے لوگ ہیں جو دعوت کھاکر بھی بات نہیں سنتے۔مگر آپؐ مایوس نہیں ہوئے بلکہ آپؐ نے حضرت علی ؓسے فرمایاکہ دوبارہ ان کی دعوت کی جائے۔چنانچہ دوبارہ ان سب کو کھانے پر مدعوکیا گیا۔جب وہ سیر ہو کر کھا چکے تو آپؐ کھڑے ہوئے اورفرمایاکہ دیکھو اللہ تعالیٰ کایہ تم پر کتنا بڑااحسان ہے کہ اس نے اپنا نبی تمہارے اند ربھیجا ہے۔میں تمہیں خدا کی طرف بلاتاہوں۔اگر تم میری بات مانوگے تو تم دینی اوردنیوی نعماء کے وارث قرار پائو گے۔کیاتم میں سے کوئی ہے جو اس کام میں میرامددگار بنے ؟یہ سن کر ساری مجلس پر سناٹے کی سی حالت طاری ہوگئی مگر یکلخت ایک کونے سے ایک نوعمر بچہ اُٹھااوراس نے کہا کہ گومیں ایک کمزورترین فرد ہوں اورعمر میں سب سے چھوٹاہوں مگر میں آپ کاساتھ دوں گا۔یہ بچے حضرت علیؓ تھے جنہوں نے اس وقت اسلام کی تائید کااعلان کیا( السیرۃ الحلبیۃ باب ذکر اول الناس ایمانا بہ صلی اللہ علیہ وسلم)۔اسی طرح اللہ تعالیٰ نے حضرت علیؓ کو یہ عظیم الشان قربانی کرنے کی توفیق عطافرمائی کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کے لئے رات کے وقت اپنے گھر سے نکلنا چاہا۔توآپؐ نے حضرت علیؓ سے فرمایا کہ تم میرے بستر پر لیٹ جائو تاکہ کفار اگر جھانک کردیکھیں توانہیں یہ دکھائی دیتا رہے کہ کو ئی شخص بستر پر سورہاہے اوروہ تعاقب کے لئے ادھر ادھر نہ نکل کھڑے ہوں۔اس وقت حضرت علیؓ نے یہ نہیں کہا کہ یارسول اللہ۔مکان کے اردگرد تو قریش کے چنیدہ نوجوان ہاتھ میں تلواریں لئے کھڑے ہیںاگرصبح کو انہیں معلوم ہواکہ آپ کہیں باہر تشریف لے جاچکے ہیں تو وہ مجھ پر حملہ کرکے مجھے قتل کردیں گے۔بلکہ و ہ بڑ ے اطمینان کے ساتھ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بستر پر لیٹ گئے اورآپؐ نے اپنی چادر ان پر ڈال دی۔جب صبح ہوئی اورقریش نے دیکھا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بجائے حضرت علیؓ آپؐ کے بستر سے اٹھے ہیں۔تووہ اپنی ناکامی پر دانت پیس کر رہ گئے۔اور انہوں نے حضرت علی ؓ کو پکڑ کر مارا پیٹا۔مگر اس سے کیا بن سکتا تھا۔خدائی نوشتے پورے ہوچکے تھے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سلامتی کے ساتھ مکہ سے باہر جاچکے تھے (السیرة الحلبیة باب عرض رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نفسہ علی القبائل من العرب ان یحموہ و یناصروہ۔۔۔)۔اُس وقت حضرت علیؓ کو کیا معلوم تھا کہ مجھے اس ایمان کے بدلے میں کیا ملنے والا ہے۔ہاں اللہ تعا لیٰ جانتا تھا کہ اس قربانی کے بدلہ میں صرف حضرت علیؓ ہی عزت نہیں پائیں گے بلکہ حضرت علی کی اولاد بھی عزت پائے گی۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے حضرت علیؓ پر پہلا فضل تو یہ کیا کہ اُن کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دامادی کا شرف بخشا اور دوسرا فضل اللہ تعالیٰ نے اُن پر یہ کیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں اُ ن کے لئے اتنی محبت پیدا کی کہ