تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 267 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 267

ہم ایک دفعہ لکھنؤ گئے۔وہاں ایک سرحدی مولوی عبدالکریم تھا۔جو ہماری جماعت کاشدید مخالف تھا۔اس نے ہمار ے آنے کے بعد ایک تقریر کی جس میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰ ۃ والسلام کے ایک واقعہ کو اس نے نہایت تحقیر کے طور پر بیان کیا۔وہ واقعہ یہ تھا کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰ ۃ والسلام دِلّی گئے وہاں ہمار ے ایک رشتہ دار کے ماموں مرزاحیرت دہلوی تھے۔انہیں ایک دن شرارت سوجھی اوروہ جعلی انسپکٹر پولیس بن کر آگئے۔اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو ڈرانے کے لئے کہنے لگے کہ میں انسپکٹر پولیس ہو ںاورمجھے حکومت کی طرف سے اس لئے بھیجا گیاہے کہ میں آپ کو نوٹس دوں کہ آپ یہاں سے فوراً چلے جائیں۔ورنہ آپ کو سخت نقصان ہو گا۔حضر ت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے تواس کی طرف توجہ نہ کی۔مگر جب بعض دوستوں نے تحقیق کرنی چاہی کہ یہ کو ن شخص ہے توو ہ وہاں سے بھاگ گئے۔اس واقعہ کو مولوی عبدالکریم سرحدی نے اس رنگ میں بیان کیا کہ دیکھو وہ خدا کانبی بنا پھر تا ہے مگروہ دلّی گیا تومرزاحیرت انسپکٹر پولیس بن کر اس کے پاس چلا گیا۔وہ کوٹھے پر بیٹھا ہواتھا۔(حالانکہ یہ بات بالکل جھو ٹ تھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نیچے دالان میں بیٹھے ہوئے تھے ) جب اس نے سنا کہ انسپکٹرپولیس آیا ہے تووہ ایساگھبرایاکہ سیڑھیوں سے اترتے وقت اس کاپیر پھسلااوروہ مونہہ کے بل زمین پر آگرا۔لوگوں نے یہ تقریر سن کر بڑے قہقہے لگا ئے اورہنستے رہے۔لیکن اسی رات مولوی عبدالکریم کو خدا تعالیٰ نے پکڑ لیا۔وہ اپنے مکان کی چھت پر سویاہواتھا۔کہ رات کو وہ کسی کام کے لئے اٹھا اور چونکہ اس چھت کی کوئی منڈیر نہیں تھی اورنیندسے اس کی آنکھیں بند ہورہی تھیں اس کاایک پائوں چھت سے باہر جاپڑا اور وہ دھڑم سے نیچے آگرا(حیات احمد جلد ۳ جزء اول صفحہ ۲۷۴،۲۷۵)۔اورگرتے ہی مرگیا۔اب دیکھو اگر اس کو غیب کاپردہ نہ ہونے کی صورت میں پتہ ہوتا کہ مجھے گستاخی کی یہ سزاملے گی تووہ کبھی گستاخی نہ کرتا بلکہ آپ پر ایمان لے آتا گوایساایمان اس کے کسی کام نہ آتا۔کیونکہ جب غیب ہی نہ رہا توایمان کاکیافائد ہ۔ایمان تو وہی کارآمد ہو سکتا ہے جوغیب کی حالت میں ہو۔ثواب یا عذاب سامنے نظر آنے پر توہر کوئی ایما ن لاسکتا ہے۔حضرت ابو بکر ؓ جب ایمان لائے تو یہ سمجھ کرایمان لائے تھے کہ مجھے دین کے راستہ میں قربانیاں کرنی پڑیں گی اوراپنی جان دینی پڑے گی اوراگر پرد ئہ غیب نہ ہوتا۔اوران کوپہلے سے معلوم ہوتاکہ ان کے لئے انعامات مقد رہیں اوروہ ان انعامات کی لالچ میں ایمان لے آتے توان کاایمان کہاں رہتا۔اسی طرح حضرت عمرؓ جب ایمان لائے تو ان کو یہ پتہ نہیں تھا کہ وہ خلیفہ بنیں گے۔بلکہ وہ تواس ارادہ سے نکلے تھے کہ میںرسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کردوں گا۔مگر جب اپنی بہن سے انہوں نے قرآن کریم کے چند اوراق لے کر پڑھے توان پر حق کھل گیا۔اوروہ ایمان لے آئے اوران حالات