تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 23
ہیں کہ قرآن کریم اس لئے نازل کیا گیا ہے تاکہ ساری دنیاکے لئے نذیر ہو۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نذیر بننا ہمارا کام نہیں بلکہ قرآن کریم کا کام ہے۔اور وہی لوگوںکے لئے نذیر بن سکتا ہے یا دوسرے الفاظ میںیوں سمجھ لو کہ ہم دنیا کو ہدایت نہیں دے سکتے بلکہ قرآن کریم ہی دنیا کو ہدایت دے سکتا ہے۔اگر ہمارے ذریعہ سے یا دوسرے لوگوں کے ذریعہ سے دنیا کو ہدایت ملنی ہوتی تو اللہ تعالیٰ یہ فرماتا کہ لِيَكُوْنُوْا لِلْعٰلَمِيْنَ نَذِيْرًا تاکہ تم تمام دنیاکے لئے نذیر بن جائو۔لیکن اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں کہا بلکہ اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے کہ ہم نے قرآن کریم کو اس لئے نازل فرمایا ہے تاکہ یہ قرآن تمام دنیاکے لئے نذیر ہو۔پس اگر کوئی چیز دنیا کو بیدار کر سکتی ہے اور اگر کوئی کلام دنیا کو ڈرا سکتا ہے۔تو وہ صرف قرآن کریم ہی ہے اور جب قرآن کریم ہی دنیا کو بیدار کر سکتا ہے اور وہی دنیا کی ہدایت کا موجب بن سکتا ہے تو سوال یہ ہے کہ کیا ہم میں سے ہر ایک نے قرآن کریم پڑھا ہے یا کیا اُسے سمجھنے اور پھیلانے کی کوشش کی ہے ؟ اگر ہم نے قرآن کریم نہیں پڑھا اور اُسے سمجھنے اور پھیلانے کی کوشش نہیں کی تو اس کے معنے یہ ہیں کہ ہم اسلام کے سپاہی نہیں۔کیونکہ ہم نے اس ہتھیار کی طرف توجہ نہیں کی جس کے ذریعہ سے یہ دنیا فتح ہو سکتی ہے۔پس قرآن کریم کو نذیر قرار دے کر اس طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ تم قرآن کریم کو بار بار پڑھو اور اُسے سمجھنے اور پھیلانے کی کوشش کرو۔یہاں تک کہ جب تم بولو تو تمہاری زبانوں سے قرآن کریم جاری ہو۔اور جب تم لکھو تو تمہاری قلموں سے قرآن کریم جاری ہو۔اور تمہارے خیالات اور تمہارے جذبات اور تمہاری خواہشات سب کی سب قرآن کریم کے تابع ہوں۔جب تک تمہاری زبانوں سے قرآن کریم نہیں بولے گا اور جب تک تمہاری قلموں سے قرآن کریم نہیں نکلے گا اس وقت تک دنیا تمہارے ذریعہ سے ہدایت نہیں پا سکتی۔لِيَكُوْنَ لِلْعٰلَمِيْنَ نَذِيْرًا کی تیسری ضمیر جیسا کہ میں نے بتا یا ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف پھرتی ہے۔پس اس لحاظ سے اس آیت کے یہ معنے ہوںگے کہ بہت برکتوں والا وہ خدا ہے جس نے فرقان کے نازل کرنےکے لئے ایسے انسان کو چنا جس کا ظاہر اور باطن ایک ہے اور تمام دنیاکے لئے مثال اور نمونہ کے طور پر ہے اور اللہ تعالیٰ نے اسے اس لئے چُنا ہے تاکہ وہ تمام دنیاکے لئے نذیر بن جائے۔چونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مادی جسم کے ساتھ ہمیشہ زندہ نہیں رہ سکتے تھے۔اس لئے آپ کو قیامت تک آنے والے لوگوں کے لئے نذیر قرار دےکر مسلمانوں کو ا س طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ جب تک تم میں سے ہر شخص چھوٹا محمد ؐ نہیں بن جاتا اور جب تک تم میں سے ہر فرد اس مقام پر کھڑا نہیں ہو جاتا کہ جب تم کو کوئی دیکھے تو وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تصویر دیکھ لے اُس وقت تک تم دنیا کے انذار میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔تصویر کو دیکھ کر انسان دوسرے شخص کے معائب