تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 260 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 260

گذاری کے جذبات کے ساتھ ہر چیز کو دیکھے تواسے معمولی سے معمولی چیز بھی دنیا کی اعلیٰ ترین نعمت دکھائی دینے لگتی ہے۔حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ سنایا کرتے تھے کہ ایک بڑھیا تھی جو بڑی نیک اورعبادت گذار تھی۔میں نے ایک دفعہ اس سے کہا کہ مائی مجھے کو ئی خدمت بتائو۔میں چاہتا ہوں کہ اگر تمہاری کوئی خواہش ہو تو اس کو پوراکرکے ثواب حاصل کروں۔وہ کہنے لگی۔اللہ کادیاسب کچھ ہے۔مجھے کسی چیز کی ضرورت نہیں۔میں نے پھر اصرار کیا اورکہا کہ کچھ توبتائو۔میری بڑی خواہش ہے کہ میں تمہاری خدمت کروں۔وہ کہنے لگی۔نور الدینؓ! مجھے اَور کیا چاہیے۔کھانے کے لئے روٹی اوراوڑھنے کے لئے لحاف کی ضرورت ہو تی ہے اللہ تعالیٰ مجھے دوروٹیاں بجھوادیتاہے۔ایک میں کھالیتی ہو ںاورایک میرابیٹاکھالیتا ہے۔اورایک لحاف ہمارے پاس موجود ہے جس میں ہم دونوں ماں بیٹاسورہتے ہیں۔میں ایک پہلو پر سوئے ہو ئے تھک جاتی ہوں تو کہتی ہوں۔بیٹا!اپنا پہلو بد ل لے اورمیں دوسرے پہلوپر لیٹ جاتی ہوں۔اس کاایک پہلو تھک جاتاہے توو ہ مجھے کہتاہے اورمیں اپنا پہلو بدل لیتی ہوں۔بس بڑے مزے سے عمر گذر رہی ہے۔اَور کسی چیز کی کیا ضرورت ہے۔میں نے پھر اصرار کیا۔توکہنے لگی اچھا۔اگر تم بہت ہی اصرار کرتے ہو توپھر مجھے ایک موٹے حرفوںوالا قرآن لادو۔میر ی نظر اب کمزورہوگئی ہے اورباریک حروف نظر نہیں آتے۔موٹے حرفوں والا قرآ ن مل جائے تومیں آسانی سے قرآن پڑھ سکوں گی۔اب ایک طرف اس بڑھیا کی حالت کو دیکھو اوردوسری طرف اس امر کو سوچو۔کہ اب اگر کوئی چار سوروپیہ ماہوار کماتاہے تووہ بھی بے چین ہے۔پانچ سو روپیہ ماہوار کما تا ہے تو و ہ بھی بے چین ہے۔دوہزار روپیہ ماہوار کماتاہے تووہ بھی بے چین ہے۔حالانکہ مال حاصل کرنا اصل مقصود نہیں بلکہ اصل مقصود راحت اورچین ہوتاہے۔اوراگر یہی حاصل نہ ہوتو روپیہ لے کرکسی نے کیا کرنا ہے لیکن اگر انسان اپنے دل میں شکر گذاری کا جذبہ پیداکر ے تواسے عالم کاذرہ ذرہ اپنا محسن دکھا ئی دیتا ہے۔اور چونکہ عالم کا ہرذرہ خدا تعالیٰ کے احسان کے نیچے ہے اس لئے اسے خداہی اپنا محسن حقیقی نظر آتا ہے۔حضرت مرزامظہر جان جانا ن ؒ دلی کے ایک بہت بڑے بزرگ گذرے ہیں۔ان کے متعلق لکھا ہے کہ انہیں لڈّو بہت پسند تھے۔دِلّی میں بالا ئی کے لڈو بنتے ہیںجو بہت لذیز ہو تے ہیں۔ایک دفعہ وہ اپنی مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے کہ کو ئی شخص بالا ئی کے دولڈو ان کے پا س ہدیۃً لایا۔ان کے ایک شاگر د غلام علی شاہ بھی ا س وقت پا س ہی بیٹھے ہو ئے تھے انہوں نے وہ دونوں لڈو ان کو دے دیئے۔بالائی کے لڈو بہت چھو ٹے چھو ٹے ہوتے ہیں اخروٹ کے برابر بلکہ اس سے بھی چھوٹے ہوتے ہیں۔انہوں نے ایک دفعہ ہی وہ دونوں لڈو اُٹھا ئے اورمونہہ میں ڈال لئے۔جب وہ کھا چکے تو حضر ت مرزا مظہر جان جانانؒ نے ان کی طرف دیکھا اورفرمایا۔میاں غلام علی !معلوم