تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 257
بیشک ایک شخص کہہ سکتا ہے کہ مَیں خدا تعالیٰ کو ہی نہیں مانتا۔اس صورت میں ہمارا فرض ہوگا کہ ہم اس کو خدا تعالیٰ کی ہستی کے متعلق دلائل دیں۔لیکن خدا تعالیٰ کی ہستی ثابت کردینے کے بعد اخلاقِ صحیحہ کی پہچان کا صحیح معیار یہی ہوگا۔کہ جو کام الٰہی صفات کے مطابق ہو و ہ اچھا ہے اورجو کام الٰہی صفات کے خلاف ہو و ہ بُرا ہے۔کیونکہ وہی ایک ایسی ہستی ہے جو ہرعیب سے پاک ہے اورہرقسم کی اعلیٰ صفات رکھنے والی ہے۔اس تعریف کی تعیین کے بعد ہمارے لئے اخلاق فاضلہ اوراخلاق سیئہ کی شناخت کچھ بھی مشکل نہیں رہتی کیونکہ جب ایک ماڈل مل جائے تو خیالی تصویر کی ضرورت نہیں رہتی۔ہم اس بات کو روز روشن کی طرح ثابت کرسکتے ہیں۔کہ اپنے اندر ہرقسم کی اعلیٰ صفات رکھنے والی ایک ایسی ہستی موجود ہے جس کے نمونہ پر چل کر انسانی افعال درست ہوسکتے ہیں اوروہ ہستی اتنی حسین ہے کہ اس کی نقل کرکے انسانی افعال بھی حسین ہوسکتے ہیں۔پس اگر خدا تعالیٰ کی کو ئی ہستی ہے اورضرورہے اوروہ اپنے اندر تمام قسم کی صفات حسنہ رکھتی ہے۔توجوبھی اس ہستی کے افعال کی نقل کرے گا اپنے اندر اخلاق فاضلہ پیداکر نے کے قابل ہوجائے گا۔پس اخلاق فاضلہ وہ ہیں جو خدا تعالیٰ کی صفات اوراس کے افعال کی نقل کر کے حاصل کئے جائیں اوراخلاق سیئہ وہ ہیں جو اسے خدا تعالیٰ کی صفات کا مظہر بننے سے دور لے جائیں۔کیونکہ اصل منبع اور مبدء خدا ہے اور انسان درحقیقت اس کی ایک تصویر ہے پس جتنا زیادہ کوئی شخص خدا تعالیٰ کی صفات کی نقل کرے گا اتنا ہی زیادہ اس کے اندر اخلاقِ فاضلہ آتے چلے جائیں گے اور جتنا زیادہ کوئی شخص خدا تعالیٰ کی صفات سے دور رہے گا اُتنا ہی زیادہ وہ اخلاقِ فاضلہ سے بھی دور ہوتا چلا جائے گا یہی حکمت ہے جس کی بنا ء پر اسلامؔ نے صفات الٰہیہ پر خاص طور پر زور دیا ہے اور باربار اُن کا ذکر فرمایا ہے تاکہ اگر ایک طرف یہ صفات اُس کے وجود کا ثبوت ہوںتو دوسری طرف انسان اُن کا مظہر بن کر ایک خدانما وجودبن جائے۔جس کے اندر حُسن ہی حُسن ہو اور کوئی عیب اور نقص اس میں دکھائی نہ دے۔سورۃ الشعراء کی ابتدا ء بھی اللہ تعالیٰ کی تین صفات کے ذکر سے کی گئی ہے جن میں سے پہلی صفت جس کی طرف اِس سورۃ میں توجہ دلائی گئی ہے صفتِ لطیف ؔ ہے۔لطیف کے معنوں پر بحث کرتے ہوئے لُغت میں لکھا ہے کہ اس کے معنے ہیں اَلْبَرُّ بِعِبَادِہٖ أَ لْمُحْسِنُ اِلیٰ خَلْقِہٖ بِاِ یْصَاَلِ الْمَنَافِعِ اِلَیْھِمْ بِرِفْقٍ وَلُطْفٍ اَوِالعَالِمُ بِخَفَایَاالْاُمُورِ وَدَقَائِقِھَا(اقرب الموارد)یعنی اللہ تعالیٰ کے لئے جب لطیف کالفظ استعمال ہوتواس کے دومعنے ہوتے ہیں۔اول یہ کہ وہ لوگوں کی خبر گیری کرنے والا اورمحبت اوراحسان کے ساتھ ان کا نفع پہنچانے والا ہے اور دوسرے یہ کہ وہ اپنی مخلوق کی مخفی سے مخفی باتوں کو جاننے