تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 250 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 250

لیکن اگراسْجُدُوْا سے ہرانسان کے آگے سجدہ کرنا مراد لیاجائے تواس کے معنے یہ بنیں گے کہ وہ چوری کرے توتم بھی چوری میں اس کی مدد کرو۔و ہ ڈاکہ مارے توتم بھی ڈاکہ مارو۔وہ قتل کرے توتم بھی قتل کرو۔حالانکہ یہ بالکل غلط ہے۔سجدہ بہرحال اسی آد م کے آگے ہو سکتا ہے جوکبھی چوری نہیں کرسکتا۔کبھی جھوٹ نہیں بول سکتا۔کبھی فریب نہیں کرسکتا۔کبھی شرک نہیں کرسکتا۔کبھی بددیانتی نہیں کرسکتا۔کبھی ظلم نہیں کرسکتا۔اور کبھی کسی اور خرابی میں مبتلانہیں ہوسکتا اور چونکہ وہ خود ان صفات کاحامل ہوگا جوملائکہ کی صفات سے بڑی ہیں اس لئے اگر ایسے آدم کی اطاعت کی جائے تویہ بالکل درست ہوگا۔جوشخص خدائی صفات کامظہر ہوگا ملائکہ کی کیاطاقت ہے کہ وہ اس کے خلاف چلیں۔اس کے متعلق تو ان کا فرض ہوگا کہ وہ اس کے ساتھ چلیں۔پس ہرشخص کے اند ر خدا تعالیٰ نے یہ طاقت پیداکی ہے کہ وہ صفاتِ الٰہیہ کا مظہر بن سکے۔اوراگر وہ اپنے اندر صفات ِ الٰہیہ پیداکرلے توپھر ملائکہ کو حکم دیاجاتاہے کہ وہ اس کی مدد کریں۔اسی کی طرف رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حدیث میں اشارہ فرمایا ہے کہ جب خدا تعالیٰ چاہتاہے کہ اس کے کسی بندے کی مقبولیت دنیا میں پھیلے تووہ ملائکہ کو حکم دیتا ہے اوروہ اس کی مقبولیت دنیا میں پھیلانا شروع کردیتے ہیں۔( بخاری کتاب بدء الخلق ،باب ذکر الملائکة صلوات اللہ علیھم) پس ہرانسان کے اندر یہ قابلیت ہے کہ وہ صفات الٰہیہ کو اپنے اندر پیداکرلے۔اورجب وہ صفات الٰہیہ اپنے اند ر پیداکرلیتا ہے توفرشتوںکو خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ حکم دیاجاتاہے کہ وہ اس کے پیچھے پیچھے چلیں کیونکہ وہ ایک خدانما وجود بن جاتا ہے اوراس کا خدا تعالیٰ کے ساتھ اتصال ہوجاتا ہے۔دنیامیں بھی ہم دیکھتے ہیں کہ ہرچیز دوسری چیز کے مشابہ بن کر ہی اُس سے پیوست ہوسکتی ہے ورنہ نہیں۔مثلاً لکڑی کے ساتھ ہم لوہے اورچمڑے کوتو پیوست کرسکتے ہیں کیونکہ ان دونوں میں ٹھو س ہونے کی مشابہت پائی جاتی ہے مگر لکڑی کے ساتھ ہم ہوایا پانی کو پیوست نہیں کرسکتے کیونکہ ان میں مشابہت نہیں پائی جاتی۔اسی طرح جوچیزیں روحانی ہوتی ہیں ان میں بھی مشارکت کاپایاجاناضروری ہوتاہے۔پس خدا سے ملنے کے لئے ضروری ہے کہ بندے اورخدامیں روحانی مشارکت ہو اوروہ مشارکت یہی ہے کہ انسان اپنے اندر الٰہی صفات پیداکرے۔جب کوئی شخص اپنے اندر الٰہی صفات پیداکرلیتا ہے تو و ہ اپنے اند رالوہیت کارنگ پیداکرلیتا ہے اورجب اس کے اندر الوہیت کارنگ آجائے تواس کا خدا تعالیٰ سے اتصال اسی طرح ممکن ہو جاتا ہے جیسے لکڑی کالوہے سے۔اورگووہ خدانہیں بن جاتامگرخدانماضرور ہو جاتا ہے۔جیسے لکڑی لوہانہیں بن سکتی یالوہالکڑی نہیں بن سکتامگر وہ آپس میں جڑنے کے قابل ہوجاتے ہیں۔پس خدا تعالیٰ سے اتصال اوراس کے قرب کے لئے ضروری ہوتاہے کہ انسان اپنے اندر صفات الٰہیہ پیداکر ے اوراس کی محبت کو اپنے اندر جذب کرے۔پھر جس