تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 248
نہ توکوئی متوازی طاقت ا س کے ساتھ موجود ہے اورنہ اس کے بالمقابل کوئی اورطاقت موجود ہے۔وہ اول و آخر ہے۔یعنی تمام اشیاء کی علّت العلل ہے۔اورسب کی سب مخلوق اسی کی طرف لوٹتی ہے۔وہ قدیر ہے یعنی ہراس بات پر قادر ہے جس کاوہ ارادہ کرتا ہے۔وہ اَلْحَیُّ ہے یعنی ہمیشہ زندہ رہنے والااوردوسروں کوزندہ رکھنے والا ہے۔وہ اَلْقَیُّوْمُ ہے یعنی اپنی ذا ت میں قائم اورسب کوقائم رکھنے والا ہے۔و ہ رَبُّ الْعَالَمِیْن ہے یعنی سب جہانوںکوپیداکرنے والا اوران کو پالنے والا ہے۔وہ اَلرَّحْمٰنُ ہے یعنی بنی نوع انسان کو جس قدر ضروریات پیش آنے والی تھیں ان تمام ضروریات کو اس نے انسان کی پیدائش سے پہلے ہی محض اپنے فضل اورانعام کے طور پرمہیاکردیاہے۔وہ اَلرَّحِیْمُ ہے یعنی تمام محنتوں اورکوششوں کے اعلیٰ نتائج پیداکرنے والا ہے۔وہ مَالِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ ہے۔یعنی ان نتائج کے علاوہ جو اس کی طرف سے طبعی قانون کے ماتحت نکلتے رہتے ہیں اُس نے ہر کام کی ایک انتہامقرر کی ہے۔جہاں پہنچ کر اس کاآخری فیصلہ صادر ہو جاتا ہے اورنیک انسان اپنے کاموںکا اچھا بدلہ اوربُراانسان اپنی برائیو ں کی سزاپالیتا ہے۔مگر یہ بدلے اورجزائیں اللہ تعالیٰ کی مالکیّت کے ماتحت ہوتی ہیں۔یعنی وہ صرف سزا ہی نہیں دیتا بلکہ اگر چاہتا ہے تواپنے بندوں کو معاف بھی کردیتا ہے۔وہ عَلِیْمٌ ہے۔یعنی ایک ایک ذرّہ کا اس کو علم ہے۔بلکہ انسانی فطرت کے مخفی اسرار تک سے آگاہ ہے۔وہ سَمِیْعٌ ہے۔یعنی لوگوں کی دعائوں اوران کی التجائوں کو سننے والا ہے۔وہ قھّار ہے یعنی ہرایک چیز اس کے قبضہ قدرت میں ہے۔وہ جبّار ہے یعنی ہرفساد کی اصلاح کرتا ہے۔وہ وھاب ہے یعنی بندوں کو اپنے انعامات سے وافرحصہ دیتا ہے۔وہ غَفُوْر ہے یعنی لوگوں کی خطائوں سے چشم پوشی کرتاہے۔وہ مُھَیْمِن ہے یعنی ہرایک چیز کامحافظ اورنگران ہے۔وہ اَلسَّلام ہے یعنی لوگوں کوسلامتی دینے والا ہے۔وہ اَلقَابِض ہے یعنی ہرایک چیز کو ایک حد کے اندر رکھنے والا ہے۔وہ اَلبَاسِط ہے یعنی کشائش اورفراخی پیداکرنے والا ہے۔و ہ اَلرَّافِع ہے یعنی پستی سے بلندی تک پہنچانے والا ہے۔وہ اَلْحَفِیْظ ہے یعنی مخلوق کی حفاظت کرنے والا ہے۔وہ اَلمُتَکَلِّم ہے یعنی لوگوں سے کلام کرنے والا اوران پر اپنے الہامات نازل کرنے والا ہے۔غرض اسلام ایک کامل الصفات خدادنیا کے سامنے پیش کرتاہے۔وہ عیسائیت کی طرح صرف یہ کہہ کر خاموش نہیں ہوجاتا کہ خدامحبت ہے۔نہ تورات کی طرح صرف چندصفات بیان کرنے پر اکتفاکرتا ہے بلکہ اس نے ان تمام صفات کا تفصیلاً ذکر کیاہے جن کاانسانی پیدائش کے ساتھ تعلق ہے۔گویاسب آسمانی ڈیپارٹمنٹس کو اس نے ننگا کرکے دکھادیاہے جو اُس کے مِنَ السَّمَاء ہونے کاثبوت ہے۔