تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 243
کوئی بدلہ لئے خدمت کرنی چاہی۔لیکن لوگوں نے اس پر یہ اعتراض کیا کہ اس کے ماننے والے ادنیٰ درجہ کے لوگ ہیں یہ کیونکر جیت سکتے ہیں۔مگرنوح ؑنے کہا کہ ادنیٰ اوراعلیٰ کا معیار اعمال صالحہ پر ہے۔نہ کہ قوم اورحکومت پر۔(آیت ۱۰۶ تا۱۱۶) مخالفوں نے بجائے جواب کے دھمکیاں دینی شروع کردیں۔اِ س پرانہوںنے خدا سے فیصلہ چاہا۔اور مخالفوں کے دنیوی سامان سب دھرے کے دھرے رہ گئے۔اور وہی ہواجو خدا نے چاہاتھا (آیت ۱۱۷تا۱۲۳) پھر عاد کے رسول ہود ؑآئے۔اُن سے بھی اِسی طرح ہوا۔انہوں نے بھی قوم کو توجہ دلائی کہ ظاہری شان و شوکت سے قوم زندہ نہیں رہتی باطنی اخلاق سے زندہ رہتی ہے۔اوروہ تم میں مفقود ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ باتیں پہلے بھی لوگ کہتے رہے ہیں۔مگر کسی کا کچھ نہیں بگڑا۔مگرآخر وہ بھی پکڑے گئے۔(آیت ۱۲۴تا۱۴۱) پھر ثمودکی قو م کی طرف صالح ؑآئے۔انہوں نے بھی بے بدلہ خدمت کا اعلان کیا اوربتایاکہ ظاہر ی شان وشوکت روحانی طاقت کے بغیر تباہی کی طرف لے جاتی ہے۔مگرقوم نے انکارکیا کہ اپنے جیسے آدمی کی اطاعت کیوں کریں۔آخر وہ بھی پکڑے گئے۔(آیت ۱۴۲ تا ۱۶۰) اِسی طرح لوط ؑ آئے اوران کی قوم کے ساتھ بھی اِسی طرح کامعاملہ گذرا۔وہ اخلاقی بدیوں کاشکار تھے۔(آیت ۱۶۱تا ۱۷۶) پھر اصحاب الایکہ کا زمانہ آیا۔ا ن کے نبی شعیبؑ کے ساتھ بھی ایسا ہی معاملہ ہوا۔اوران کے مخالف پکڑے گئے وہ تجارتی بددیانتی کا شکا ر تھے۔(آیت ۱۷۷تا۱۹۲) یہ قرآن بھی خدائی کلام ہے اوراپنی دلیلیں خود دیتاہے۔پہلے نبیوں نے اس کی پیشگوئیاں کی ہیں اور بنی اسرائیل کے علما ء بھی اپنی کتب کے ذریعہ سے اس کی صداقت جانتے ہیں۔پھر وہ اپنی پہلی مخاطب قوم کی زبان میں آیا ہے۔اگر غیر زبا ن ہوتی تووہ اُسے سمجھ نہ سکتے مگر اب غور نہ کرنے کی کیا وجہ ہے۔وجہ وہی ہے جو پہلے نبیوں کی قوموں کے نہ ماننے کی تھی۔یہ عذا ب کے منتظر ہیں مگر جب وہ آیا تو اُنہیں کیا فائدہ ہوگا ؟ اگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم واقعہ میں سچے ہیں توان کو سمجھ لینا چاہیے کہ ان کا آنا اصلاح نہ کرنے والوں کے لئے عذا ب کااعلان ہے۔(آیت ۱۹۳تا ۲۱۰) لو گ ا س کی تعلیم کو دیکھیں کہ کیا اس میں شیطا ن کی تائید ہے ؟ اگر نہیں توشیطان نے خدا کی تائید کیوں کرنی تھی اوروہ اعلیٰ پُرمعارف کلام کس طرح کرسکتا تھا اِس میں تونبیوں والی باتیں ہیں اورنبیوں والی باتوں کو شیطان سن ہی