تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 240 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 240

کہ اگر قرآن خدا کا کلام نہیں تو بھی اس میں جاری واقعات سے الگ ہو کر بھی کوئی مضمون آسکتا ہے۔سب سے زیادہ تعجب کی بات یہ ہے کہ یہ غلطی ابتدا میں خود مسلمانوں کو لگی ہے پھر مسیحیوں نے اُسے اُچھالا ہے۔مگر جس نے بھی غور کیا ہے باوجود دشمن کے اس استدلال کی غلطی کو سمجھ گیا ہے۔چنانچہ ریورنڈ وہیری نے اپنی تفسیر میں اس قسم کے استدلال کو غلط قرار دیا ہے۔اور اس سورۃ کو یقینی طور پر مکی قرار دیا ہے (تفسیر القرآن از وہیری جلد ۳ صفحہ ۱۹،۲۰ سورۃ الشعراء ابتدائیہ) پس اس قسم کا اجتہاد قطعاً درست نہیں ہو سکتا خواہ مسلمان ایسا کریں یا عیسائی کریں۔سورتوں کا زمانہ ہم صرف تاریخی شواہد سے متعین کرسکتے ہیں۔اور وہ بھی محض اس حد تک کہ فلاں سورۃ یا اس کا معتدبہ حصہ فلاں زمانہ میں اترا ہے۔اس سے زیادہ باتیں جو قیاس سے معلوم کی جائیں ہمیں غلطی کی طرف لے جاسکتی ہیں۔لیکن ان سے فائدہ کوئی نہیں ہو سکتا۔ترتیب سور سورۃ الفرقان کے آخر میں یہ بتایا گیا تھا کہ یہ خیا ل مت کرو کہ اللہ تعالیٰ اس نظام کو تباہ کردے گا جو اس وقت دیر سے قائم شدہ مذہبوں کے ذریعہ سے دنیا میں جار ی ہے بلکہ یہ سوچو کہ اللہ تعالیٰ نے تو انسان کو اپنی آواز پر لبیک کہنے اور اپنے اخلاق کو ظاہر کرنے کے لئے پیدا کیا تھا اگر وہ اس غرض کو پورا نہیں کرتا تو اللہ تعالیٰ کوایسے انسان یا اس کے نظام کے قائم رکھنے کی ضرورت کیا ہے۔اور اُسے اس کے تباہ کرنے کا غم کیوں ہو ؟اب اس سورۃ میں یہ بتایا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اپنی محبت اور بنی نوع انسان کی ہمدردی کی وجہ سے اس پیش نظر خطرہ سے گھبراتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ بجائے تباہی کے اگر انسان کو بچا لیا جائے تو اچھا ہے۔یہ بے شک ان کی محبت کا ثبوت ہے لیکن خدا تعالیٰ کی سکیم کے مطابق نہیں۔کیونکہ خدائی سکیم یہ ہے کہ انسان کو علم وعرفان دے کر اس امر کا موقع دیا جائے کہ وہ اپنی مرضی اور اپنی کوشش سے خدا تعالیٰ کے قرب کا راستہ تلاش کرے اور اگر وہ ایسا نہ کرے تو اس کے طبعی نتائج بھگتے۔اگر اللہ تعالیٰ ایسا نہ کرتا توا نسان ایک مشین تو بن جاتا مگر خدا تعالیٰ کی شکل پر بنایا ہوا وجود نہ ہوتا۔پس باوجود محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہمدردی اور محبت اور شدید خواہش کے انسان کو خدائی سکیم کے مطابق چلنا ہوگا۔اس کے بغیر وہ حقیقی نجات نہیں پاسکتا۔اس سورۃ سے مسیحیوں اور یہودیوں سے خطاب جو سورئہ یونس سے شروع تھا اُس کا رُخ بدل کر پھر مسلمانوں کی طرف کیا گیا ہے اور اسی وجہ سے مقطعات میں تبدیلی کی گئی ہے۔اس سورۃ کا نام شعراء اس لئے رکھا گیا ہے کہ اس سورۃ کا مضمون بتاتا ہے کہ انسانی ترقی قول اور عمل میں یک رنگی سے ہی حاصل ہوتی ہے اور وہ لوگ جو کہتے کچھ اور ہیں اور کرتے کچھ اور ہیں شعراء کی طرح وہ کامیاب نہیں