تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 239
سُوْرَۃُ الشُّعَرَآءِ مَکِّیَّۃٌ سورۃ شعراء یہ سورۃ مکّی ہے۔وَھِیَ مَعَ الْبَسْمَلَۃِ مِائَتَانِ وَثَمَانٍ وَّعِشْرُوْنَ اٰیَۃً وَّاَحَدَ عَشَرَ رُکُوْعًا اور بسم اللہ سمیت اس کی دو سو اٹھائیس (۲۲۸) آیتیں ہیں۔اور گیارہ رکوع ہیں زمانہء نزول سورئہ شعراء اکثر مفسرین کے نزدیک مکی ہے مگر مقاتل کہتے ہیں کہ اس میں کچھ آیتیں مدنی بھی ہیں۔جیسا کہ وہ آیت جس میں شعراء کا ذکر ہے (آیت ۲۲۵) اسی طرح وہ آیت جس میں ذکر ہے کہ کیا ا ن کے لئے یہ نشان کم ہے کہ علماء بنی اسرائیل بھی اس قرآن کو پہنچانتے ہیں یعنی سمجھتے ہیں کہ یہ قرآن انبیا ء بنی اسرائیل کی پیشگوئیوں کے مطابق ہے (آیت ۱۹۸) ابن عباسؓ اور قتادہؓ کا قول ہے کہ اس میں سے صرف چار آیتیں مدنی ہیں باقی سب سورۃ مکی ہے اور وہ چار آیتیں وہ ہیں جووَ الشُّعَرَآءُ يَتَّبِعُهُمُ الْغَاوٗنَ سے آخر تک چلتی ہیں۔(آیت ۲۲۵تا ۲۲۸)(تفسیر القرطبی سورۃ الشعراء ابتدائیہ)لیکن اس قسم کی موشگافی کی وجہ یا تو یہ ہو ا کرتی ہے کہ بعض مضامین کو مفسرین مدینہ یا مکہ کے مناسب حال سمجھ لیتے ہیں یا کسی ایسے واقعہ کو جو ان آیات سے مناسبت رکھتا ہے اپنے قیاس کا موجب بنا لیتے ہیں۔ورنہ بلا کسی خاص دلیل یا تاریخی گواہی کے یہ تفریق پیدا کرنا درست نہیں۔مثلاً مقاتل نے اَوَ لَمْ يَكُنْ لَّهُمْ اٰيَةً اَنْ يَّعْلَمَهٗ عُلَمٰٓؤُا بَنِيْۤ اِسْرَآءِيْلَ (آیت ۱۹۸)کو صرف اس لئے مدنی قرار دے دیا ہے کہ اس میں علماء بنی اسرائیل کا ذکر ہے حالانکہ سورئہ مریم قطعی اور یقینی طور پر مکی ہے(تفسیر القرطبی سورۃ مریم ابتدائیہ) اور وہ ساری کی ساری عیسائیت اور یہودیت کے ذکرسے پُر ہے۔اسی طرح سورئہ طٰہٰ قطعی اور یقینی طور پر مکی ہے (تفسیر القرطبی سورۃ طٰہٰ ابتدائیہ) مگر وہ بھی بنی اسرائیل کے ذکر سے پرہے۔اور ابن عباس ؓاور ان کے دو شاگردوںنے آخری آیتوں کو صرف اس لئے مدنی قرار دے دیا ہے کہ ان میں شعراء کا ذکر ہے۔اور شعر پر زور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ ء مدنی میں دیا گیا تھا۔اس سے پہلے مسلمانوں میں شاعر نہ تھے اور ان آیات میں یہ ذکر ہے کہ شاعر محض تُک بند ہوتے ہیں سوائے نیک شاعروں کے۔مگر یہ استدلال درست نہیں کیونکہ بغیر کسی واقعہ کے بھی تو اصول بیان کئے جاتے ہیں۔اگر اسی طرح دلائل قائم کئے جائیں تو شاید ارسطوکی کتب اور سقراط کی کتب سے اس کے عجیب و غریب سوانح زندگی تیا ر کرلئے جائیں۔آخر انسان واقعات سے جُدا ہو کر بھی تو سوچتا ہے پھر اس کے لئے یہ کیا مشکل ہے کہ وہ یہ سمجھ لے